Bharat Express DD Free Dish

Om Birla

اپوزیشن کا الزام ہے کہ اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کے دوران جانبدارانہ رویہ اختیار کیا اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے عدم اطمینان بڑھا۔

قرارداد کے حق میں لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما گورو گوگوئی، منیش تیواری، دیپیندر سنگھ ہڈا اور جوتھیمانی اپنے دلائل پیش کریں گے۔ یہ بحث پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس میں اہم سیاسی موضوع بن گئی ہے اور اس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت بحث متوقع ہے۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر منگل کو پارلیمنٹ میں باضابطہ بحث شروع ہو گئی۔ اس معاملے پر ایوان میں کافی ہنگامہ آرائی کے بعد اب بحث کے لیے کل 10 گھنٹوں کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر منگل کو پارلیمنٹ میں اہم بحث ہونے والی ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق اس معاملے پر ایوان میں تفصیلی گفتگو کی جائے گی اور بحث کے اختتام پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ حکومت کی طرف سے باضابطہ جواب پیش کریں گے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جو لیڈر اپنے حلقے کے لوگوں سے مسلسل جڑے رہتے ہیں، وہ علاقائی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اوم برلا کو اس بات کا کریڈٹ دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور ترقیاتی تجاویز کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا،

اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ الائنس کے 118 اراکین نے اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹس دیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ بجٹ سیشن کے پہلے مرحلے میں اسپیکر نے کھلے طور پر تعصب کا مظاہرہ کیا اور لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن لیڈروں کو بولنے کا مناسب موقع نہیں دیا۔

ورلڈ وائلڈ لائف ڈے کے موقع پر منگل کے روز وزیر اعظم نریندر مودی، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور دیگر بی جے پی لیڈران نے عوام کو مبارکباد پیش کی۔

وزیر اعظم مودی اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی مبینہ طور پر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز شیئر کرنے کے معاملے میں لوک سبھا سکریٹریٹ نے کانگریس کے 9 لیڈروں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں تین دن کے اندر تحریری جواب طلب کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کی سیاست میں اہم تبدیلی کے بعد، وزیراعظم نریندر مودی 17 فروری کو بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے نئے صدر طارق رحمان کے حلف برداری کے موقع پر وہاں نہیں جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم کی غیر حاضری میں بھارت کی نمائندگی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کریں گے، جو 17 فروری کو ڈھاکہ پہنچیں گے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے وندے ماترم تنازعہ، پارلیمانی سیاست اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے وفاداری کا سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔