Bharat Express DD Free Dish

Nitish Kumar

اس فیصلے سے  انڈیا اتحاد پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ کیونکہ کانگریس جتنی مضبوط ہوگی اتحاد اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ آل انڈیا الائنس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ راہل گاندھی کی رکنیت بحال ہونے سے کانگریس کے ساتھ اتحاد کو بھی تقویت ملے گی۔ اپوزیشن کا اتحاد مضبوط ہوگا اور جارحیت بھی بڑھے گی۔ راہل بی جے پی کے خلاف سب سے مضبوط آواز ہیں۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کی رابطہ کمیٹی میں کانگریس، ٹی ایم سی، ڈی ایم کے، عام آدمی پارٹی، جے ڈی یو، آر جے ڈی، شیوسینا (یو بی ٹی)، این سی پی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، سماج وادی پارٹی اور سی پی آئی (ایم) سے ایک ایک رکن ہوگا۔  اس کے ساتھ یہ طے کیا گیا ہے کہ اتحاد میں شامل دیگر چھوٹی جماعتوں کو کمیٹی میں جگہ نہیں ملے گی۔

اسی دوران بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ان سے ملنے رابڑی ہاؤس پہنچے۔ جہاں انہوں نے لالو اور تیجسوی یادو سے ملاقات کی۔ ساتھ ہی ان کی ملاقات کے بارے میں یہ بھی خبر ہے کہ دونوں کے درمیان کابینہ کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار بنگلورو میں اپوزیشن پارٹیوں کی پریس کانفرنس میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ اس سے متعلق قیاس آرائیاں کی جانے لگی تھیں، لیکن اب بہار کے وزیراعلیٰ نے خود وضاحت کی ہے۔ 

میٹنگ میں قریب چھ سے سات گھنٹے تک 2024 کے عام انتخابات اور نئے اتحاد سے متعلق متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد اپوزیشن کی طرف سے مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی جس میں میٹنگ کے اندر ہونے والے اہم فیصلوں کی جانکاری دی گئی ۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ٹویٹ کیا کہ اچھی شروعات کا مطلب ہے کہ آدھا کام ہو گیا ہے۔ ہم خیال اپوزیشن جماعتیں سماجی انصاف، جامع ترقی اور قومی بہبود کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں گی۔

اپوزیشن اتحاد کی پہلی میٹنگ کا مثبت اثر دیکھنے کو ملا ہے۔ پہلی میٹنگ میں 15 پارٹیوں کے سربراہان نے شرکت کی تھی اور اس کا مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ آئندہ ہونے والی میٹنگ میں قریب دو درجن پارٹیوں کے سربراہان شرکت کرنے والے ہیں ۔

لالو کےخاندان پر طنز کرتے ہوئے اجے آلوک نے کہا- " ریلوے میں نوکری کے بدلے پیسے آپ لو ، نوکری آ پ دو، غریبوں کے پیسے لے لو، ایڈوانس مل جاتا ہے اس سے کمپنی بنا لو، 4 کروڑ کےمکان کو 4 لاکھ کی قیمت کا  بتادو

شاہ تین مہینے پہلے بھی بہار آئے تھے۔ اس دوران شاہ کی آمد سے پہلے برسر اقتدارعظیم اتحاد کے حامیوں اور بی جے پی کے حامیوں نے پٹنہ میں ہوائی اڈے اور دیگر مقامات کے قریب پوسٹر لگائے ہیں۔

اس پورے معاملے میں بتایا جا رہا ہے کہ اعلیٰ سطحی میٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کی سیکورٹی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ایس ایس جی کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔