Bharat Express DD Free Dish

News

 امت شاہ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں ایکناتھ شندے کو مہاراشٹر کے ترقیاتی چہرے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے ریاست کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل قابلِ تعریف کام کر رہے ہیں۔

عوام سے افواہوں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی فرضی ویڈیوز سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ پولیس نے لوگوں سے لوٹے گئے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد فوری طور پر پولیس یا قریبی سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

23 جنوری کو لڑکی کی ماں نے پولیس تھانے میں نئی شکایت درج کرائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ لڑکی کے شوہر نے اس کے ساتھ مار پیٹ کی اور 29 اکتوبر کو زبردستی تیزاب پلایا۔پولیس کا کہنا ہے کہ چونکہ لڑکی نابالغ تھی،

مہایگیہ کے دوران سوامی ابھیشیک برہمچاری نے دیوی للیتا کی خصوصی عبادت کی اور ملک کی خوشحالی، امن اورعوام کی بھلائی کے لیے دعائیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رسومات اجتماعی ترقی کو فروغ دینے اور روحانی اقدار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں۔

امت شاہ آج شام 4 بج کر 40 منٹ پر رائے پور ایئرپورٹ پہنچیں گے، جہاں وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے ان کا استقبال کریں گے۔ 8 فروری کو وہ نکسلواد کے مسئلے پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کریں گے،

بی ایم سی میں اکثریت کے لیے 114 نشستوں کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کو 89 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ شندے گروپ کی شیوسینا کے پاس 29 نشستیں ہیں۔ ان دونوں کے اتحاد سے اکثریتی ہندسہ عبور ہو گیا ہے۔ اسی لیے شندے گروپ کو اقتدار میں شراکت دی گئی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اس فریم ورک کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر عائد 25 فیصد اضافی ٹیرف ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے اس فیصلے کو نافذ کیا۔ یہ اضافی ٹیرف بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے تناظر میں لگایا گیا تھا۔

اسی وقت ایک تیز رفتار کنٹینر بے قابو ہو کر آیا اور سڑک پر کھڑے مسافروں کو ٹکر مار دی۔ حادثہ اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ مسافروں کو سنبھلنے یا خود کو بچانے کا موقع تک نہ مل سکا اور کنٹینر انہیں روندتا ہوا آگے نکل گیا۔

وزیراعظم مودی  کے بیان کے مطابق، بات چیت میں دفاع اور سلامتی کے تعاون کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور انوویشن جیسے شعبوں کو نئی رفتار دینے پر غور ہوگا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک مستقبل کے لیے نئے شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی تلاش کریں گے تاکہ دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکے۔

سابق نائب صدرِ جمہوریہ حامد انصاری نے اسپیکر اور چیئرمین کے اختیارات سے متعلق اہم تبصرہ کرتے ہوئے پارلیمانی نظام کی خودمختاری پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے قواعد بالکل واضح ہیں اور ان کے مطابق کارروائی چلانے کا مکمل اختیار اسپیکر یا چیئرمین کے پاس ہوتا ہے۔