نئی دہلی :مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ملک کی داخلی سلامتی کے حوالے سے مشن موڈ میں نظرآ رہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں سلامتی اور ترقی کے لیے روڈ میپ طے کرنے کے بعد اب ان کی توجہ نکسلواد کے مضبوط گڑھ چھتیس گڑھ پر مرکوز ہے۔ امت شاہ آج 7 فروری کی شام جموں سے براہِ راست رائے پور پہنچیں گے۔ ان کا یہ تین روزہ دورہ 7 سے 9 فروری تک جاری رہے گا، جسے بستر خطے سے نکسلواد کے خاتمے کی سمت ایک فیصلہ کن قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔جموں میں دہشت سے پاک کشمیر کے عزم کے تحت امت شاہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی افسران کے ساتھ اہم میٹنگ کی۔ اس اجلاس میں سکیورٹی گرڈ کو مزید مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے نئے اور اختراعی اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کشمیر میں سلامتی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد اب ان کا رخ چھتیس گڑھ کی طرف ہے، جہاں نکسلواد کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
امت شاہ آج شام 4 بج کر 40 منٹ پررائے پورایئرپورٹ پہنچیں گے، جہاں وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے ان کا استقبال کریں گے۔ 8 فروری کو وہ نکسلواد کے مسئلے پرایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کریں گے، جس میں مرکزاورریاستی حکومت کے افسران شریک ہوں گے۔ اس میٹنگ میں نکسلواد کے مکمل خاتمے کے لیے آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔ اسی روز وہ شفٹنگ دی لینس کے موضوع پر منعقد قومی کانکلیو میں بھی شرکت کریں گے، جہاں پالیسی اور ترقی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال ہوگا۔
دورے کے آخری دن 9 فروری کو امت شاہ جگدل پور جائیں گے اور بستر پندوم کے اختتامی پروگرام میں شامل ہوں گے۔ ایک ہی ہفتے میں شمالی ہند کے حساس خطے کشمیر اور وسطی ہند کے نکسلواد سے متاثرہ علاقے چھتیس گڑھ میں وزیر داخلہ کی موجودگی اس بات کی واضح علامت ہے کہ حکومت داخلی سلامتی کے چیلنجز کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے جارحانہ اورمربوط حکمت عملی پرعمل پیرا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ وزارت داخلہ کی ذمہ داری سنبھالتے ہی امت شاہ نے عزم کیا تھا کہ 31 مارچ 2026 تک ملک کو نکسلواد سے پاک کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مرکزی اور ریاستی فورسز کے باہمی تعاون سے مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ بڑی تعداد میں نکسلیوں نے خودسپردگی کی ہے، جب کہ مختلف مہمات کے دوران کئی بڑے نکسلی لیڈر مارے بھی جا چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

