Bharat Express DD Free Dish

Nawaz Sharif

ہندوستان-پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اورآپریشن سندورکے بعد پاکستان کی سیاسی حالت بگڑتی جارہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف پر دباؤ بڑھنے کے درمیان نواز شریف بحران سنبھالنے کے لئے میدان میں اتر آئے ہیں۔ انہوں نے سول ملٹری میٹنگ میں حصہ لے کرسیاسی حل تلاش کرنے پرزوردیا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو پہلے لندن گراؤنڈ اسٹیشن پر نامعلوم شخص نے روکا اور پھر گالیاں اور چاقو سے حملہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کا بیان سامنے آیاہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات پر بھی بات کی۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارتی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کو ایک ’آغاز‘ قرار دیا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم نے بھی دورہ بھارت کی خواہش کا اظہار کیا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’اگر انہیں دعوت ملی تو وہ بھارت کا دورہ ضرور کریں گے‘۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔

پی ایم مودی کے اس جوابی بیان میں ایک پیغام بھی مانا جارہا ہے اور ایک اشارہ بھی ہے کہ ہندوستان امن چاہتا ہے اور اپنے لوگوں کی سلامتی کو ترجیح دینا پسند کرتا ہے،ایسے میں پاکستان امن کے دشمنوں اور ترقی میں روکاوٹ ڈالنے والے عناصر سے خود کو پاک کرکے بھارت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتا ہے ۔

نواز شریف نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی سیاسی انتقام یا دشمنی نہیں ہے، حتیٰ کہ ان لوگوں کے خلاف بھی نہیں جنہوں نے ماضی میں انہیں اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش کی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ-نواز کے چیف الیکشن کمشنر رانا ثناء اللہ نے اس بارے میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے بعد لاہور کے ایک ہوٹل میں ہونے جارہی پی ایم ایل-این جنرل کاؤنسل کی میٹنگ میں نواز شریف کے صدر عہدے پرمہر لگائی جائے گی۔ نواز شریف صدارتی عہدے کے امیدواربھی ہیں۔

آج دوپہر 12 بجے تک کاغذات جمع کرائے گئے اور 1 بجے تک ان کی جانچ پڑتال ہوئی۔کاغذات واپس لینے کا وقت ڈھائی بجے تھا، پارٹی صدر کے الیکشن کے لیے 4 بجے جنرل کونسل کے اجلاس میں ووٹنگ ہونا تھی۔لیکن وہ اس سے قبل  ہی  نواز شریف بلا مقابلہ  پارٹی صدر منتخب ہوگئے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈارکواب ایک نئی ذمہ داری دے دی گئی ہے۔ اب انہیں پاکستان کا نائب وزیراعظم بنایا گیا ہے۔ دراصل، شہبازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد اسحاق ڈارکو وزیرخارجہ مقرر کیا گیا تھا، لیکن اب نئی ذمہ داری دے دی گئی ہے۔