Bharat Express DD Free Dish

Narendra Modi

ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس میں وزیراعظم مودی کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ایزیزا ایئرپورٹ پر ریڈ کارپٹ کے ساتھ ان کا خیرمقدم کیا گیا، اور انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

پریش راول نے پی ایم مودی کا موازہ سردار ولبھ بھائی پٹیل سے کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے پورا یقین ہے کہ مودی جی میں سردار پٹیل جیسی بہت سی خوبیاں ہیں۔‘‘

جون 1969 کو اجمیر میں پیدا ہوئے بھوپیندر یادو راجستھان کے الور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ وہ اس وقت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی کابینہ کے وزیر ہیں۔

ہریانہ کی آبپاشی اور آبی وسائل کی وزیر شروتی چودھری  نے کہا کہ 'من کی بات' پروگرام ایک طاقتور اور منفرد پلیٹ فارم ہے، جو وزیر اعظم کو براہ راست عام لوگوں سے جوڑتا ہے اور ملک بھر کے شہریوں کو تحریک اور سمت فراہم کرتا ہے۔

پی ایم مودی کی قیادت نے اس طرح آئینی مزاج کا ایک نیا پیمانہ طے کیا ہے، جس میں عدلیہ کے لیے فطری احترام کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور آئینی وقار کو برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ عدلیہ کی آزادی کا مستقل اثبات ہے۔ آج عدلیہ سر اٹھاتی ہے، سرزنش کرتی ہے، سوال کرتی ہے اور آزادی کے ساتھ فیصلے دیتی ہے۔

پی ایم مودی کا ’آتمنر بھر بھارت‘ کا وژن اب خلائی شعبے میں اپنی رفتار کو گہرا انداز میں ڈھال رہا ہے، اسے قومی طاقت اور اسٹریٹجک خود مختاری کے ایک اہم ستون میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ کوشش نجی سیٹلائٹس کے کامیاب لانچ سے لے کر طویل مدتی خلائی ریسرچ کے اہداف تک متعدد تاریخی اقدامات میں واضح ہے۔

2020 کے اسمبلی انتخابات میں مہاگٹھ بندھن نے سیوان میں چھ اسمبلی سیٹوں پر قبضہ کیا تھا، جب کہ بی جے پی صرف دو سیٹیں جیت سکی تھی اور جے ڈی یو کا کھاتہ بھی نہیں کھلا تھا۔ آر جے ڈی نے تین، سی پی آئی ایم ایل نے دو اور کانگریس نے ایک سیٹ جیتی۔

بہار میں ہوائی اڈوں کی تعمیر سے متعلق کابینہ کے فیصلے پر انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈا بنانے کا فیصلہ ہماری حکومت نے 2015 میں ہی لے لیا تھا۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف ایئرپورٹ بنا دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ حکومت نے کہا تھا کہ چپل پہننے والا بھی ہوائی سفر کرے گا، لیکن آج ہوائی کرایہ آسمان چھو رہا ہے۔ مرکزی حکومت کو اس کا جواب دینا چاہئے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے احمد آبادرروانہ۔

کچھ رپورٹس کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ مہا کمبھ میں سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اس پر جب سنجے راوت سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ کمبھ میں ہزاروں لوگ مرے اور ہزاروں لوگ لاپتہ ہو گئے۔ جس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔