Bharat Express DD Free Dish

Narendra Modi

وزیراعظم نریندر مودی اس ماہ کے آخر میں جاپان اور چین کا دورہ کریں گے۔ جاپان کے دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے، جب کہ پی ایم مودی چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کی دوپہر دہلی کے 'کرتویہ پتھ ' پر واقع 'کرتاویہ بھون-3' کا شاندار افتتاح کیا۔ اسی عمارت میں داخلہ، مالیات، پیٹرولیم، MSME اور آئی بی جیسی اہم وزارتوں کے دفاتر منتقل کیے جائیں گے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے بہار ووٹر لسٹ سے متعلق SIR پر اپوزیشن کے احتجاج کے بارے میں کہا، ’’یہ احتجاج صرف SIR کے خلاف نہیں، بلکہ بھارت کے جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہے۔  مہاراشٹر میں کیا ہوا، وہ بھی دیکھا۔ بہار میں SIR کے نام پر 65 لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔ یہ جمہوریت کا واضح قتل ہے۔ ہم عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘

خالص ریشم سے بنی ان راکھیوں کو وزیراعظم مودی، وزیراعلیٰ پشکر دھامی اور وزیر زراعت گنیش جوشی کو بھیجنا ایک علامتی اقدام ہے، جس کے ذریعے گروپ نے نہ صرف اپنی محنت کا اعتراف چاہا بلکہ ایک مضبوط اور خود کفیل بھارت کے خواب میں اپنی شراکت بھی ظاہر کی۔

وزیر اعظم کے خطاب کو ماہرین نے موجودہ عالمی تجارتی دباؤ اور گھریلو پیداوار کے فروغ کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔ ان کے بیانات سے واضح ہے کہ حکومت مستقبل کی اقتصادی چنوتیوں سے نمٹنے کے لیے لوکل انڈسٹری اور مقامی مصنوعات پر زور دے رہی ہے۔

یہ کامیابی وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں بھارت کی ترقی کا ایک قابلِ فخر ثبوت ہے اور بھارت کے نیٹ زیرو عزم کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ترقیاتی کام وزیراعظم کی گتی شکتی اسکیم کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد مختلف ذرائع آمدورفت کو جوڑ کر بہتر کنیکٹیویٹی اور سامان کی ترسیل میں سہولت دینا ہے۔

اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے صحافیوں کو بتایا:"ایک اچھے مالیاتی ماڈل کو مزید تقویت دینے کے لیے، کابینہ نے این سی ڈی سی کے لیے چار سال کی مدت کے لیے 2,000 کروڑ روپے کی سرمایہ گرانٹ امداد کی منظوری دی ہے۔"

وزیراعظم مودی نے اپنے بیان میں وکاس بھی، وراثت بھی کے نظریے کی عکاسی کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت صرف ترقی ہی نہیں بلکہ اپنی روحانی، تہذیبی اور تاریخی وراثت کی بازیابی و تحفظ کا بھی پختہ عہد رکھتا ہے۔ یہ آثار، جو بدھ مت کے اہم ترین تبرکات میں شمار کیے جاتے ہیں، بھارت کے لیے نہ صرف روحانی بلکہ بین الاقوامی ثقافتی اہمیت بھی رکھتے ہیں، اور ان کی واپسی ایک تاریخی کامیابی ہے۔

بھارت اب افریقی ممالک اور جنوبی ایشیائی پڑوسیوں میں توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ’نیبرہڈ فرسٹ‘ اور ’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسیوں کے تحت بھارت توانائی، بنیادی ڈھانچے اور تجارت کے ذریعے خطے میں اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔