Bharat Express DD Free Dish

Nagpur Violence

سی ایم فڑنویس نے کہاکہ میں رائے گڑھ پولیس اور عدالت کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ پولیس نے 24 گھنٹے کے اندر چارج شیٹ داخل کی اور عدالت نے بھی 24 گھنٹے کے اندر سزا سنائی۔ 48 گھنٹے کے اندر نتیجہ سامنے آجائے گا۔

ناگپور میں ہوئے تشدد معاملے میں پولیس کی کارروائی جاری ہے۔ اس درمیان پولیس نے فہیم شمیم خان کو ماسٹرمائنڈ بتاتے ہوئے گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس نے تین تھانوں میں اب تک 6 ایف آئی آردرج کی ہے اور51 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ناگپورتشدد معاملے میں اب سیاسی بیان بازی تیزہوگئی ہے۔ پورنیہ سے رکن پارلیمنٹ پپویادونے کہا کہ وشوہندو پریشداوربجرنگ دل کے لوگ فسادی ہیں۔ ان لوگوں کوحکومت کا تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پرپابندی لگانی چاہئے۔

ناگپورمیں ہوئے تشدد کے بعد وزیراعلیٰ دیویندرفڑنویس نے اسمبلی میں بیان دیا، جس میں انہوں نے اس حادثہ کو منصوبہ بند حملہ بتایا ہے۔ ’چھاوا‘ فلم اور اورنگ زیب کا ذکرکرتے ہوئے پولیس پرحملہ کرنے والوں کو کسی چھوڑا نہیں جائے گا، چاہے وہ کسی بھی کونے میں چھپے ہوں۔

پولیس کمشنر رویندر سنگل نے بتایا ہے کہ پیر کی رات ناگپور میں ہونے والے تشدد کے سلسلے میں 50 سے زیادہ مشتبہ افراد کو ’’حراست میں لے لیا‘‘ گیا ہے اور پانچ ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔

بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے کہا کہ یہ اورنگ زیب کا مقبرہ ہے اور جو گندگی ہے وہ یہاں رکھنے لائق نہیں ہے۔ اسے ٹوائلٹ بھی قرار دیں تو غلط نہیں ہوگا۔ ہمارے چھترپتی شیواجی اور سنبھاجی مہاراج کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، اس کی کوئی بھی گندگی ہماری ریاست میں رکھنے لائق نہیں ہے۔

ناگپورمیں اورنگ زیب کے مقبرہ کو ہٹائے جانے سے متعلق وشوہندوپریشد اور بجرنگ دل کے ذریعہ احتجاج کے بعد ہوئے تشدد پرشیوسینا (یوبی ٹی) لیڈر سنجے راؤت نے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس پربڑا حملہ بولا ہے۔

چیف منسٹر دیویندر فڑنویس جو صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، نے لوگوں سے پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے اور انہیں امن و امان اور امن برقرار رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے ناگپور کے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

تشدد رات 8 سے 8:30 بجے کے درمیان عروج پر تھا، جس کے بعد سیکورٹی فورسز کو مداخلت کرنا پڑی۔ تشدد ناگپور کے ہنسپوری علاقے میں پھیل گیا، جہاں نامعلوم افراد نے دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

اے آئی ایم آئی ایم کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے کہا کہ ہم اس طرح کے ہر تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ مہاراشٹر حکومت کو تحقیقات کرنی چاہیے کہ ایسا تشدد کیوں ہوا۔ بی جے پی میں کچھ لوگ ہیں جو نفرت پھیلاتے رہتے ہیں۔ ہم کہتے رہے ہیں کہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔