ناگپور تشدد پر مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے اسمبلی میں کہا کہ آیت والی کوئی چادر نہیں جلائی گئی۔ آیت کے حوالے سے افواہ پھیلائی گئی۔ یہ میسج جان بوجھ کر وائرل کیا گیا کہ آیت والی چادر جلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور میرے بیان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پولیس پر حملہ کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ ہم کسی مجرم کو نہیں چھوڑیں گے۔ اگر وہ قبر میں چھپا ہوا ہے تو ہم اسے قبر سے نکالیں گے۔
Those who attacked the Police in the Nagpur incident will not be spared; strictest action will be taken against them…
नागपूर पोलिसांवर हल्ला करणाऱ्यांना सोडणार नाही, त्यांच्यावर कठोरात कठोर कारवाई करणार…(विधानसभा, मुंबई | दि. 19 मार्च 2025)#Maharashtra #Mumbai… pic.twitter.com/PaiofEE9qv
— Devendra Fadnavis (@Dev_Fadnavis) March 19, 2025
سی ایم فڑنویس نے کہاکہ جن لوگوں نے ناگپور معاملے میں پولیس پر حملہ کیا تھا، انہیں ان کی قبروں سے بھی نکالا جائے گا۔ ناگپور پرامن ہے، یہ ہمیشہ پرامن رہاہے۔ دیگر معاملات میں عام معافی ہوگی، لیکن پولیس پر حملہ کرنے والوں کو معافی نہیں ملے گی۔اسمبلی میں اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ دنیا کی کوئی ریاست ایسی نہیں جہاں جرائم نہ ہوتے ہوں۔ یہ رجحانات ہیں۔ یہ اہم ہے کہ جرم کے بعد کیا کارروائی کی جاتی ہے۔ چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں زیادہ ہیں۔ عصمت دری اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے ہم چھیڑ چھاڑ کا جرم درج کرتے تھے، لیکن اب ہم نے 2013 کے بعد زیادتی کا جرم درج کرنا شروع کر دیا ہے۔
سی ایم فڑنویس نے کہاکہ میں رائے گڑھ پولیس اور عدالت کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ پولیس نے 24 گھنٹے کے اندر چارج شیٹ داخل کی اور عدالت نے بھی 24 گھنٹے کے اندر سزا سنائی۔ 48 گھنٹے کے اندر نتیجہ سامنے آجائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ سنجیدگی سے کام کریں گے تو سزا کی شرح میں اضافہ ہوگا۔سی ایم فڑنویس نے یہ بھی کہا کہ نربھیا کے لیے 150 کروڑ روپے کی رقم موصول ہوئی تھی، جس میں سے 135 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ ہم 15 کروڑ روپے خرچ کرنے جا رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد نربھیا اسکواڈ تلنگانہ میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ ہم دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس سال ہم پہلے نمبر پر آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ‘آپریشن مسکان’ شروع کر دیا گیا ہے اور ہم نے 13000 بچوں کو ان کے گھروں تک پہنچا دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



