Bharat Express DD Free Dish

Monsoon Session 2025

لوک سبھا میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ حکومت سے سوال پوچھتے پوچھتے ملک سے سوال پوچھنے لگے۔ ان کے اس بیان پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ راجناتھ سنگھ جی بہت سینئر لیڈر ہیں اور ہمیں امید تھی کہ کم از کم وہ کچھ مدعوں پر جواب دیں گے، لیکن، ایک بھی مدعے پر بات نہیں ہوئی۔

اس سے قبل آج صبح راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ راجیہ سبھا کا اجلاس اب پیر کو صبح 11 بجے جب کہ لوک سبھا دوپہر 2 بجے دوبارہ ہوگا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے کہا کہ ایوان کی کارروائی تبھی آگے بڑھے گی جب حکومت بہار میں ووٹر لسٹ پر نظرِثانی کے معاملے پر جواب دے گی۔

اجلاس کے دوسرے دن کے آغاز پر اپوزیشن لیڈروں نے پارلیمنٹ کے ’مکر دوار‘ کے باہر مشترکہ احتجاج کیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بہار میں انتخابات سے قبل SIR مہم کو ’متعصبانہ اور غلط‘ انداز میں چلانے کا الزام لگایا۔ اس احتجاج میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو جیسے بڑے لیڈروں نے شرکت کی۔ وہ تختیاں اور پوسٹر لہرا رہے تھے جس میں انتخابی ہیرا پھیری کا الزام لگایا گیا تھا۔

حالانکہ ان کی مدت کار 2027 میں ختم ہونے والی تھی ،لیکن نصف مدت کار میں ہی انہوں نے اچانک استعفیٰ دے دیا ہے جو کئی سوالوں کو جنم دے رہا ہے۔ حالانکہ آج ہی پی ایم مودی نے سینئر وزراء کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی تھی۔ اس میٹنگ کا ایجنڈہ بہت زیادہ واضح نہیں تھا۔

خطاب کے دوران وزیراعظم مودی نے بھارت کی معیشت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھارت دنیا کی دسویں سب سے بڑی معیشت تھا، لیکن آج بھارت تیزی سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اجلاس کا مقصد اپوزیشن کی طرف سے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران حکومت کو اہم قومی ایشوز پر گھیرنا ہے۔ کانگریس اور دیگر اتحادی جماعتیں آپریشن سندور کے دوران مبینہ کوتاہیوں اور نقصانات پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہیں، جو 7 مئی کو پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں شروع کیا گیا تھا۔

کانگریس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے، جو اسے پاک-بھارت تنازع میں غیر ضروری مداخلت سمجھتی ہے۔ دوسری جانب، حکومت نے آپریشن سندور کو دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب مہم قرار دیتے ہوئے اپوزیشن سے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 21 جولائی سے 21 اگست تک چلے گا۔ جو پہلے سے طے وقت سے ایک ہفتے زیادہ ہے۔ پہلے یہ سیشن 12 اگست کو ختم ہونا تھا۔ مگر، اسے ایک ہفتے کے لئے بڑھایا گیا ہے۔

اس سے پہلے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 31 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ بجٹ اجلاس کے دوران کئی اہم قوانین منظور کیے گئے، جن میں وقف ترمیمی بل بھی شامل ہے۔ بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجیجو نے بتایا کہ اجلاس کے پہلے حصے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کل 9 نشستیں ہوئیں۔ اجلاس کے دوسرے حصے میں دونوں ایوانوں کی 17 نشستیں ہوئیں۔ یوں کل ملا کر بجٹ اجلاس میں 26 نشستیں ہوئیں۔