انڈیا الائنس کے سرکردہ رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن سے قبل 19 جولائی 2025 کو شام 7 بجے ایک ورچوئل اجلاس طلب کیا ہے تاکہ اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ یہ اجلاس اس تناظر میں منعقد ہو رہا ہے کہ مانسون سیشن 21 جولائی سے شروع ہو رہا ہے اور 21 اگست تک جاری رہے گا۔ اس میٹنگ میں اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں اٹھائے جانے والے اہم موضوعات پر حکمت عملی تیار کریں گی، جن میں پہلگام دہشت گرد حملے، آپریشن سندور، سیز فائر کا فیصلہ،بہار میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی، اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم شامل ہیں۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن او راجیہ سبھا ممبر ڈاکٹر سید ناصر حسین نے ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں یہ جانکاری دی ہے۔انہوں نے پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال کے ایک پوسٹ کو شیئر کرتے یہ اطلاع دی ہے۔ ایکس پر کانگریس لیڈران کے پوسٹ کے مطابق اس اجلاس میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی، اور دیگر سینئر رہنما شامل ہوں گے، جو سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی اسٹریٹجی میٹنگ کے بعد مشترکہ ایجنڈے پر غور کریں گے۔
Top leaders of INDIA parties to meet virtually before the monsoon session on 19th July at 7 PM to discuss important issues . https://t.co/MTPvHH04du
— Dr Syed Naseer Hussain, M P (@NasirHussainINC) July 17, 2025
اس ورچوئل اجلاس کا مقصد اپوزیشن کی طرف سے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران حکومت کو اہم قومی ایشوز پر گھیرنا ہے۔ کانگریس اور دیگر اتحادی جماعتیں آپریشن سندور کے دوران مبینہ کوتاہیوں اور نقصانات پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہیں، جو 7 مئی کو پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جموں کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا بھی مطالبہ شامل ہوسکتا ہے، وہیں بہار میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اپوزیشن نے اسے عدالت میں چیلنج کیا ہے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے لاکھوں ووٹرز کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایکس پر پوسٹس کے مطابق، ترنمول کانگریس اور عام آدمی پارٹی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا امکان ہے، جس سے انڈیا اتحاد کی داخلی ہم آہنگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ اجلاس انڈیا الائنس کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ مانسون سیشن سے قبل اپنی حکمت عملی کو مضبوط کریں اور ایک متحدہ محاذ پیش کریں۔ کانگریس کی قیادت نے معیشت، مہنگائی، بے روزگاری، اور جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی جیسے ایشوز کو بھی ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، اپوزیشن لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لیے اپنے امیدوار کے طور پر کوڈیکنیل سریش کو پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم، ترنمول کانگریس کے رہنما ڈیریک او برائن نے حکومت پر “پارلیمنٹ فوبیا” کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مانسون سیشن کا اعلان قبل از وقت کرکے حکومت آپریشن سندور پر خصوصی سیشن کے مطالبے سے بچ رہی ہے۔ یہ اجلاس اپوزیشن کے لیے نہ صرف حکمت عملی بنانے بلکہ اتحاد کی طاقت کو ظاہر کرنے کا بھی ایک اہم موقع ہوگا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

