Jamiat Ulama-i-Hind urgent Meeting: وقف قانون کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی اہم میٹنگ آج،نئی حکمت عملی ہوگی تیار،لیا جاسکتا ہے بڑا فیصلہ
ممتا حکومت کے وزیر صدیق اللہ چودھری نے کی، نے وزیر اعظم سے فوری طور پر اس قانون کو منسوخ کرنے کی اپیل کی۔جمعیت نے وقف قانون کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کے لیے کراؤڈ فنڈنگ مہم کا بھی اعلان کیا۔
جمعیۃ علماء ہند نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، مولانا محمود مدنی نے وقف قانون کو بتایا سنگین خطرہ
عرضی گزار صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے کہا کہ یہ قانون آئین ہند کی متعدد بنیاد ی دفعات سے متصادم، اکثریتی ذہنیت کی پیداوار اور بدنیتی پر مبنی 13 اپریل کو جمعیۃ علماء ہندکی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مزید اقدامات پر غور ہوگا۔
Nuh Violence Case: نوح تشدد معاملہ میں ملزم توفیق کو پنجاب-ہریانہ ہائی کورٹ سے ملی مستقل ضمانت
رمضان کے مہینے میں ڈیرھ سال سے قید توفیق کے اہل خانہ کی خوشی دوبالا ہوئی۔ والدین نے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا شکریہ ادا کیا ہے۔
Maulana Mahmood Madani on CM Yogi Adityanath: وقف املاک کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری، وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان پر مولانا محمود مدنی کا پلٹ وار
صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ وقف جائیدادوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن یوپی کے وزیر اعلیٰ یوپی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی دشمن کی جائیداد ہے۔
Delhi Riots 2020 Case: دہلی فسادات 2020 کے ملزم رہے دو مسلم نوجوان باعزت بری
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کامیاب پیروی پر وکلاء کی ستائش کی۔ اہل خانہ نے جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ ادا کیا۔
سپریم کورٹ کے ذریعہ عبادت گاہوں کے خلاف نئے مقدمات اورسروے پرروک لگانے کا مولانا محمود مدنی نے کیا خیرمقدم، جمعیۃ علماء ہند کی لڑائی جاری رکھنے کا اعلان
مولانا محمودمدنی نے کہا کہ مسجد-مندرتلاش کرنے والے اس ملک کی یک جہتی اوراتحاد کے دشمن ہیں۔ جبکہ ہمارا مقصد اس ملک میں امن و امان کا تحفظ کرنا ہے۔
Maulana Mahmood Asad Madani: الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کے بیان پر مولانا محمود اسد مدنی برہم، کہا-جسٹس یادو کے خلاف کی جائے فوری کارروائی
مولانا مدنی نے کہا کہ انہیں آئین کا نمائندہ ہونا چاہیے جب کہ وہ آئین کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جسٹس شیکھر یادو نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ ملک اکثریت کی مرضی کے مطابق چلے گا۔





