Bharat Express DD Free Dish

Maulana Mahmood Madani

عرضی میں کہا گیا ہے کہ آسام کے وزیراعلیٰ کی مذکورہ تقریر، اس تناظرمیں کہ وہ ایک اعلیٰ آئینی منصب پر فائزہیں، کسی بھی طرح سے محض رائے کے اظہار کے دائرے میں نہیں آتی، بلکہ اس کا واحد اور بنیادی مقصد ایک کمیونٹی کے خلاف نفرت، عداوت اور بدخواہی کو فروغ دینا ہے۔ ایسے بیانات سے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا ہے اور ایک مخصوص برادری کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے، جو اپنے عہدے کی مریادا سے غداری ہے۔

لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) کیمپس میں واقع قدیم مزارات کو لے کر جاری انہدامی نوٹس نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند نے اس کارروائی کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نوٹس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ جہاد کی مخالفت کرنے والے لوگ ملک کے غدارہیں، ملک کے ساتھ دشمنی کررہے ہیں اور وہ دہشت گردی پھیلانا چاہتے ہیں۔ وہ ملک سے غداری کا کام کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے دشمن ملک جیسے پاکستان اور دیگر ممالک کے ایجنڈے کو پورا کررہے ہیں۔

جمعیت علمائے ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی کے فرقہ وارانہ بیان پر اب تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے مدنی کو آئینہ دکھاتے ہوئے بھارت کو مسلمانوں کے لیے سب سے محفوظ ملک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے بھارت دنیا کا سب سے محفوظ ملک ہے۔

اسلامی مذہبی رہنما مولانا محمود مدنی ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ آج انہوں نے بھوپال میں منعقدہ جمعیت علمائے ہند کے اجلاس میں جہاد کے تصور کو ایک مقدس فریضہ قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب داری پر  بھی سنگین سوالات اٹھائے۔

مفتی اعظم ہند حضرت مفتی محمد کفایت اللہ دہلویؒ پر دو روزہ سیمینار کی اہم اور آخری مجلس آج ماؤلنکر ہال، کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔مولانا محمد سلمان بجنوری نائب صدر جمعیۃ علماء ہند اور مولانا مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے بالترتیب آخری دو نشستوں کی صدارت کی۔ نظامت کے فرائض ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی اور مفتی محمد عفان منصور پوری نے انجام دیے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے اس سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان پرجس میں انہوں نے وَندے ماترم کے بعض اشعار کے حذف کئے جانےکو تقسیمِ ہند سے جوڑنے کی کوشش کی ہے، کو گمراہ کن اورخلاف حقیقت بتایا ہے۔

سکھ بھائیوں نے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم سفید وکالی دھاری والے جھنڈے دیکھتے ہیں توسمجھ جاتے ہیں کہ یہ قافلہ ہماری مدد کے لیے آیا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود مدنی کی طرف سے جاری بیان میں لکھا گیا ہے کہ مختلف میڈیا چینلوں نے نیوزایجنسی اے این آئی کے حوالے سے بعض اخبارات میں یہ خبرشائع کی ہے کہ مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے انٹرویومیں کہا ہے کہ ’’گیان واپی مسجد یا متھرا شاہی جامع مسجد کے سلسلے میں دونوں کمیونٹی کے لوگ آپس میں بیٹھ کربات کریں۔‘‘ یہ خبر سراسر بے بنیاد اورغلط ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی و یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہماری لڑائی تجاوزات ہٹانے کے خلاف نہیں ہے، لیکن سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظرانداز کر کے لوگوں کو بے گھرکرنا اور قانون کی بجائے دھمکی ،خوف اورطاقت کی زبان استعمال کرنا انصاف اور انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔