Bharat Express DD Free Dish

Maulana Mahmood Madani

جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشدمدنی نے ملک کے موجودہ سیاسی اورسماجی حالات پرسخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ایک دومسائل ہوں توانہیں بیان کیا جائے، یہاں تو مسائل کا ایک انبارہے، ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتاکہ دوسراپیدا کردیا جاتا ہے، ایک تنازعہ ٹھنڈا نہیں ہوتاکہ دوسرا تنازعہ کھڑا کردیا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی کی دعوت پر بدھ کی شام دہلی کے شنگریلا ہوٹل میں مختلف سیاسی پارٹیوں بالخصوص کانگریس پارٹی، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی، بیجوجنتا دل، ڈی ایم کے، آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ کے سرکردہ ممبران پارلیمنٹ جمع ہوئے۔

یوپی کے باغپت میں کانوڑ کیمپ کے افتتاح میں لونی سے بی جے پی رکن اسمبلی نند کشورگرجرنے مسلم مذہبی رہنما مولانا محمود مدنی پر جم کر تنقید کی ہے۔

 جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعدمدنی نے کہا کہ ہمیں سنجیدگی کے ساتھ اس عظیم حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ مکتب کوئی معمولی ادارہ نہیں، بلکہ اسلام کی بنیادوں کی حفاظت کا محاذ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بچوں کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہوتی ہےاور دین کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند ملک گیر بیداری مہم کا آغاز کرے گی، خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں رضا کار اور علماء دیہاتوں اور شہری بستیوں کا دورہ کریں گے تاکہ مسلمانوں کو مردم شماری میں اپنی ذات صحیح درج کرنے میں رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ ہندوستان ہمارا ملک ہے، اس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ہمیں ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہم اپنی فوج کے ساتھ ہر طرح سے کھڑے ہیں۔اس لئے عوام کو بھی یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ مضبوط رہیں۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ’’ہندستان ہمارا وطن ہے، اس کا دفاع ہماری قومی اورآئینی ذمہ داری ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ حب الوطنی، امن اوراتحاد کا پیغام دیا ہے اورآج جبکہ ہماری سرحدوں پرخطرہ منڈلا رہا ہے، ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔‘‘

مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسیٹرجنرل تشارمہتا نے پیش ہوکرعدالت سے استدعا کی کہ انہیں ابتدائی جواب اورمتعلقہ دستاویزات داخل کرنے کے لیے سات دنوں کی مہلت دی جائے، جسے عدالت نے منظورکرلیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے میٹنگ میں بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند نے وقف کے تحفظ کے لیے آزادی سے قبل اوربعد میں تاریخی کردارادا کیا ہے۔ 1937 میں شریعت ایپلی کیشن ایکٹ اوربعد ازاں وقف ایکٹ 1954 اور1995 میں جمعیۃ کی سفارشات کو شامل کیا گیا، لیکن موجودہ حکومت کسی بھی دینی اورقانونی ادارے کی رائے کو خاطرمیں نہیں لائی۔

پریس کانفرنس کے دوران جب  محمود مدنی سے مغربی بنگال کے مرشد آباد میں تشدد کے بارے میں سوال پوچھا گیاتو وہ غصے میں آگئے۔ انہوں نے کہا، 'جو سوال آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں، آپ کو وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھنا چاہیے کہ مرشد آباد کیوں جل رہا ہے؟