نئی دہلی: یوپی کے لونی سے بی جے پی رکن اسمبلی نند کشورگرجرنے معروف عالم دین، مسلم مذہبی رہنما اورجمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود مدنی، راکیش ٹکیٹ اورہندوستان کے علمائے کرام پرتنقید کی ہے۔ انہوں نے مولانا محمود مدنی کے خلاف توہین آمیز الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ شدت پسند ذہنیت کا ہے، اسے ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔ کیونکہ اس نے ادے پورفائلزپرعدالت میں عرضی داخل کی ہے۔
بی جے پی رکن اسمبلی نند کشورگرجرنے کہا کہ مولانا محمود مدنی نہیں چاہتا کہ ادے پورکے کنہیا لال کے قتل کا معاملہ عوام کے سامنے اجاگرہو۔ نند کشور گرجرنے کہا کہ مولانا محمود مدنی پہلے گائے کاٹنے کے خلاف بولتے تھے توانہیں ہرکوئی پسند کرتا تھا، لیکن اب مولانا محمود مدنی شدت پسند سوچ کے ساتھ کام کررہا ہے۔
بی جے پی ایم ایل اے نے کیا عجیب وغریب مطالبہ
لونی کے ایم ایل اے نند کشورگرجرنے کہا کہ پلوامہ حملہ، لوجہاد اورکنہیا لال کے قتل معاملے پرمولانا محمود مدنی کا بیان سامنے نہیں آیا۔ یہ اس کی جہادی ذہنیت کوظاہرکرتا ہے۔ لوجہاد کرنے والے کو پھانسی ہویا اس کا سرقلم کردیا جائے۔ یہ مطالبہ وہ حکومت سے کررہے ہیں۔ باغپت میں چنداین گاؤں کے پاس کانوڑکیمپ کا افتتاح کرنے کے بعد نند کشورگرجرنے ہندوستان کے مولاناؤں (علمائے کرام) کو ہندوبتاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے سبھی مولاناؤں (علمائے کرام) کے دادا مسلم تھے۔
اسدالدین اویسی پرکی تنقید
نند کشور گرجر نے اے ایم آئی ایم کے سربراہ اورحیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کہا کہ کبھی کبھی تواسدالدین اویسی بھی کہتا ہے کہ ان کے دادا ہندوتھے، لیکن مسلم شدت ممالک سے فنڈنگ ہونے کی وجہ سے انہیں سناتن کی مخالفت کرنی پڑتی ہے۔ لیکن بہت جلد ان سب کی سناتن دھرم میں واپسی ہونے والی ہے۔ کیونکہ جس طرح سے میری ہدایت پرلونی میں اس باربکرے نما کیک کاٹ کرایکو فرینڈلی عید منائی گئی ہے۔ اسی طرح سے مسلمانوں میں بڑی تبدیلی ہونے والی ہے۔ انہوں نے کانوڑپرتبصرہ سے متعلق انہیں ٹکیٹ برادران پربھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹکیٹ برادران کو ہرمعاملے پربولنے سے بچنا چاہئے۔
ٹکیٹ برادران سے متعلق کیا کہا؟
کانوڑپرتبصرہ کرنے کے بعد وہ اپنے سماج کی نظروں میں گرگئے ہیں اوراب کوئی بھی ٹکیٹ برادران کواپنے پاس بٹھانے کے لئے تیارنہیں ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اپنا کام کررہی ہے۔ ٹکیٹ برادران کے سرٹیفکیٹ کی حکومت کو ضرورت نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

