جمعیۃ علماء ہند (محمودمدنی)آج 13 اپریل کو دہلی میں مرکز کی نریندر مودی حکومت کے ذریعہ لائے گئے وقف قانون کے سلسلے میں ایک بڑا اجلاس منعقد کررہی ہے۔ اس میٹنگ میں وقف ایکٹ کے خلاف احتجاج میں آگے کیا کرنے کی ضرورت ہے اس پر تبادلہ خیال کیا جا ئے گا۔ اور ایک بڑا فیصلہ لیا جائے گا کہ آگے ہمیں کیا کرنا چاہیے، کیا شہر در شہر احتجاج ومظاہرے سے کام ہوگا یا پی ایم اور صدر جمہوریہ سے ملاقات کرکے اپنی بات رکھی ہوگی یا کوئی اور طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ وقف ایکٹ 8 اپریل 2025 سے نافذ کیا جاچکا ہے۔ اس سے قبل جمعیۃ علماء ہند (محمود مدنی گروپ) کے صدر مولانا سید محمود اسعد مدنی نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ انہوں نے قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ ایسے میں جمعیۃ علماء ہند کا دہلی میں ہونے والا اجلاس اہم ہے۔
جمعیت نےعدالت میں دائر اپنی عرضی میں کہا ہے کہ یہ وقف ایکٹ آئین ہند کے متعدد آرٹیکلز بالخصوص آرٹیکل 14، 15، 21، 25، 26، 29 اور 300-A کے تحت دیئے گئے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ قانون مسلمانوں کے مذہبی اور ثقافتی حقوق اور تشخص کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

ادھر دوسری جانب جمعیۃ علماء ہند نے وقف ایکٹ کے خلاف ایک کروڑ لوگوں کے دستخط شدہ قرارداد وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کولکاتہ کے رام لیلا میدان میں ایک بڑے اجتماع میں، جمعیت کے بنگال یونٹ نے، جس کی قیادت اس کے سربراہ اور ممتا حکومت کے وزیر صدیق اللہ چودھری نے کی، نے وزیر اعظم سے فوری طور پر اس قانون کو منسوخ کرنے کی اپیل کی۔جمعیت نے وقف قانون کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کے لیے کراؤڈ فنڈنگ مہم کا بھی اعلان کیا۔ سپریم کورٹ اگلے ہفتے کئی درخواستوں کی سماعت کرنے والا ہے۔ رضاکار بنگال کے مختلف اضلاع میں جا کر قانون کے خلاف دستخط جمع کریں گے۔ صدیق اللہ نے کہا کہ ایسی عوامی تحریکوں کی وجہ سے حکومتیں پہلے بھی قوانین واپس لے چکی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

