Bharat Express DD Free Dish

Maulana Arshad Madani

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے 18 سال کے بعد ضمانت پرملزمین کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمین کے اہل خانہ کے لئے بلاشبہ یہ انتہائی خوشی کی بات ہوگی کیونکہ ان کے لئے یہ ساعت ایک طویل انتظارکے بعد آئی ہے

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا ہے کہ بے گناہوں کی باعزت رہائی تک ہماری قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔ ساتھ ہی ملک کے نامورکریمنل وکلاء کی خدمات حاصل کی جائے گی۔

عدالت نے نہ صرف ملزم کو ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے بلکہ مقدمہ کی سماعت 6 ماہ کے اندرمکمل کئے جانے کابھی ٹرائل کورٹ کو حکم دیا۔

ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ نوح فسادات معاملے میں پولس نے 50 سے زائد مقدمات قائم کر رکھے ہیں اور ان مقدمات میں قریب 200 ملزمین کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے جبکہ 500 سے زائد ملزمین کو مفرور قرار دیا گیا ہے اور پولس ملزمین کی تلاش میں ہے اور ان کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جارہا ہے۔

مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کے مختلف وفود میوات کے الگ الگ علاقوں میں ریلیف اور راحت رسانی کے کام میں روز اول سے مصروف ہیں۔ سروے اور قانونی کارروائی کے لئے بھی ریلیف کمیٹی، لیگل سیل اور سروے کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔

افسوس ہے کہ سیاستداں اور حکمراں طاقتیں مذہبی لبادےکو اوڑھ کرنفرت کی سیاست کررہی ہیں۔اور یہ سب اس لئے ہورہا ہے تاکہ اقتدار پر قابض رہ سکے، یہ رجحان یقینی طور پر انتہائی خطرناک ہے۔ پہلے انتخابات بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مدعوں پر ہوتے تھے لیکن آج مذہب کے نام پر سیاست ہورہی ہے اور اقتدار پر قبضہ جمانے کیلئے مذہب کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند نے اپنی تیار کردہ رائے میں کہا کہ یکساں سیول کوڈ آئین میں موجود مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کے خلاف ہے، کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 25 میں شہریوں کو دی گئی مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کو ختم کردیتا ہے ۔

دار العلوم دیوبند کی مجلس تعلیم کے ناظم حسین احمد نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ دارالعلوم میں انگریزی، ہندی، ریاضی، کمپیوٹر سائنس جیسے مضامین کی تعلیم پہلے سے دی جارہی ہے اور کسی بھی زبان کے سیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے متصادم، ناقابل قبول اور ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لئے نقصاندہ ہے۔

دارالعلوم دیوبند نے انگریزی کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔ مدرسہ کے قوانین پر عمل نہ کرنے والے کا ادارے سے اخراج کردینے کی وارننگ دی گئی ہے۔