US-Iran’s Historic MoU: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کو بتایا ’’تاریخی دستاویز‘‘، کہا-’’باہمی احترام ہی پائیدار امن کی بنیاد‘‘
تاہم یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کے ساتھ ہی حتمی معاہدے کے لیے مجوزہ 60 روزہ تکنیکی مذاکرات کی مدت شروع ہو گئی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی برقرار ہے کہ ورسائے میں ٹرمپ کے ہاتھ سے کیے گئے دستخط اتوار کو دی گئی ان کی ڈیجیٹل منظوری سے کس طرح مختلف ہیں۔
US-Iran Deal: امریکا کے ساتھ تاریخی امن معاہدے کے بعد ایران کا پہلا ردِعمل، کہا: “اب وقت آگیا ہے…”
ٹرمپ نے کہا کہ 14 جون کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے نے ان تمام مقاصد کو پورا کیا جنہیں امریکہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ، عالمی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنا اس معاہدے کے بنیادی نکات ہیں۔
14 Conditions of US Iran Agreement: امریکہ-ایران معاہدے کی 14 اہم شرائط، آبنائے ہرمز سے جوہری پروگرام تک کن نکات پر ہوا اتفاق؟
امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی فنڈنگ فراہم کرنے پر متفق ہوئے ہیں، دونوں ممالک اقتصادی اور مالی پابندیوں کے خاتمے کے لیے فوری بات چیت شروع کریں گے۔
Iran-US deal: فرانس میں تاریخی لمحہ، ٹرمپ اور مسعود پزیشکیان نے تعلقات کی بحالی کے دستاویز پر کیے دستخط
فرانس میں اہم سفارتی پیش رفت، دونوں ممالک نے تنازع کم کرنے اور تعلقات بہتر بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے، جنیوا میں مزید بات چیت کا امکان برقرار۔
Neither War Nor Peace Policy: ملک کے مفاد میں نہیں ہے جنگ لیکن دباؤ میں کبھی نہیں جھکے گا ایران، نہ جنگ، نہ امن کی پالیسی سے ہمیں نکلنا ہوگا باہر: صدر مسعود پزشکیان
ایرانی صدر نے گزشتہ 100 دنوں کے دوران ایرانی خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرگرم موجودگی نے ایران کے دشمنوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے اقدامات سے ایرانی انقلاب کمزور ہو جائے گا، لیکن خواتین کی فعال شرکت نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
Iran-US Peace Talks: امریکہ سے مذاکرات میں برت رہے ہیں مکمل احتیاط، قومی مفادات کے تحفظ پر زور…‘‘، امن معاہدے سے متعلق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بیان
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز ایجنسی نے ہفتہ کو رپورٹ دی کہ اگر واشنگٹن نے لچک نہ دکھائی تو تہران کے ساتھ امن مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ایران نے تین بنیادی شرائط پیش کی ہیں۔
…Iran Ready to End War If: اگر حقوق محفوظ رہیں تو ایران جنگ ختم کرنے کے لیے تیار: صدر مسعود پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کو تیار ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
US ‘Blockade’ Strategy Fails?: ’’امریکہ کی ’ناکابندی‘ والی حکمت عملی ناکام…خلیج میں بڑھے گی کشیدگی…‘‘، ایران کی اعلیٰ قیادت کا دعویٰ
آبنائے ہرمز اور خلیج فارس عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم خطہ ہیں، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر، اکثر اس علاقے میں تنازعات کا باعث بنتی رہی ہے۔
Iranian Prez slams Trump: جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے کی کوششوں کو ایران نے کیا مسترد، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت حملہ
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو آٹھ ہفتے گزر چکے ہیں، جس کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تنازع لبنان تک پھیل چکا ہے، جہاں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ ایک نازک جنگ بندی فی الحال قائم ہے، تاہم اس کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات اب بھی غیر یقینی ہیں۔
Iran US Talks: ’’امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے تیار ہے تہران لیکن………‘‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے رکھی بڑی شرط
صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ ’’اگر امریکی حکومت اپنی بالادستی کی پالیسی کو ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرے تو معاہدے تک پہنچنے کے امکانات یقینی طور پر موجود ہیں۔‘‘





