Bharat Express DD Free Dish

Masoud Pezeshkian

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ہفتہ کو سرکاری ٹیلی ویژن پربات چیت  کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز بند ہے اور اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکہ اپنا رویہ بہتر نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ امریکہ کو سب سے پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت طاقت اور عزت کی پوزیشن میں ہے اور پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ امریکا نے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔پزشکیان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر دنیا بھر میں امریکا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ ان کے مخالفین نے شام کی طرز پر48 گھنٹے کے اندر ایران پر قبضہ کرنے کا مکمل منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم ایران نے اپنی طاقت اور صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ پزشکیان کے مطابق موجودہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران کواتنی آسانی سے کمزوریا غیرمستحکم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے راستے پر مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔

دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید ماجد ابن الرضا نے کہا کہ تہران ہر دشمن کی دھمکی کو حقیقی اور سنجیدہ سمجھتا ہے اور اسے محض نفسیاتی جنگ قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو کسی ممکنہ حملے سے حیران ہوگا اور نہ ہی غفلت برتے گا، بلکہ ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور عسکری طاقت میں اضافے کا موقع سمجھتا ہے۔

درحقیقت بدھ کے روز نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO) کے سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو اپنی جانب سے ’ختم‘ قرار دیا تھا اور ایرانی قیادت کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔

عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت اور عوام جنازے میں شرکت کو اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مرحوم رہنما کو عالم اسلام کی ایک مؤثر شخصیت قرار دیتے ہوئے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ بات چیت، سفارت کاری اور پرامن حل کے اصولوں پر قائم رہی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی تنازع کا پائیدار حل فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

صدر پزشکیان نے بعض سیاسی حلقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکراتی ٹیم کو بدنام کرنے اور قومی فیصلوں پر سوال اٹھا کر حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق تہران کو امید ہے کہ عبوری 60 روزہ مدت کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب امریکی ڈالر تک کے منجمد اثاثوں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر معاہدے پر مذاکرات جاری رہیں گے۔