نئی دہلی : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کا نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے امریکہ کا نیا علاقہ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر اشیا کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے اس آبی گزرگاہ کی صورتحال کا عالمی توانائی بازار پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ پوسٹ کیا، جس میں اس اہم سمندری راستے کو دائرے میں نمایاں کیا گیا تھا۔ امریکی صدر نے اسے امریکہ کا نیا علاقہ قرار دیتے ہوئے اپنے سابقہ دعوے کو ایک بار پھر دہرایا۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔
ٹرمپ پہلے بھی کر چکے ہیں دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل 18 اگست کو بھی یہی نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے 15 اگست کو نیویارک میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آبنائے ہرمز کو امریکہ کے علاقے کا حصہ قرار دینے کی بات کہی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو بری طرح شکست دینے کے بعد وہ بہت جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیں گے۔ انہوں نے اپنے اس بیان پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بات واقعی درست ہے۔آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس کی اہمیت کے باعث یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی کا اثر کئی ممالک کی معیشتوں پر پڑ سکتا ہے۔
ایران کا سخت ردعمل
دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنے موقف کو واضح کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ اس وقت تک بند رہے گی، جب تک امریکہ اپنے وعدے پورے نہیں کرتا اور اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ہفتہ کو سرکاری ٹیلی ویژن پربات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز بند ہے اور اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکہ اپنا رویہ بہتر نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ امریکہ کو سب سے پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔محسن رضائی نے دیگر ممالک کو بھی امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی مبینہ اقتصادی جنگ میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے میں شامل ہونے والے کسی بھی ملک کو دشمن تصور کیا جائے گا۔امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو لے کر جاری یہ کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اہم بحری راستہ طویل عرصے تک بند رہتا ہے تو عالمی توانائی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

