Bharat Express DD Free Dish

Malika arjun khadge

راہل گاندھی نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کی اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ہوئی سبھا کے بعد مبینہ طور پر کیے گئے شدھی کرن کے معاملے کو بھی اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف ایس سی اور ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔

راجیہ سبھا میں ملکارجن کھڑگے نے نیٹ (NEET) پرچہ لیک، جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج اور مبینہ لاٹھی چارج کا معاملہ اٹھایا۔ ایوان میں ہنگامے کے بعد کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔

نئے سال 2026 کے موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈروں راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور پرینکا گاندھی نے ملک کے عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے خوشحالی، صحت، روزگار، کسانوں کی ترقی اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کی اپیل کی۔

کل جماعتی میٹنگ میں اپوزیشن نے دہشت گردوں کے کیمپوں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا اور حکومت کا ہر اقدام میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا، میٹنگ میں تقریباً سبھی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما ہوئے شامل

سی پی پی کی میٹنگ میں سونیا گاندھی نے کہا کہ کل لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پاس ہو گیا۔ اس بل کو جبراً پاس کیا گیا ہے۔ یہ بل آئین پر ایک حملہ ہے۔

کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین اور راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی سب سے پہلے چادرچڑھائیں گے اورملک کی خوشحالی، امن، بھائی چارے کے لئے دعا کریں گے اوردعا کے بعد کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے کی طرف سے درگاہ کے بلند دروازہ سے زائرین نام بھیجے گئے پیغام کوپڑھ کرسنائیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب کارکنان ٹکٹوں کی تقسیم میں من مانی کی شکایت کرنے کمل ناتھ کے پاس پہنچے تو کمل ناتھ نے انہیں دگ وجے سنگھ اور جے وردھن سنگھ کے کپڑے پھاڑنے بھیج دیا۔

یہ میٹنگ ملکارجن کھرگے نے بلائی ہے۔اس میٹنگ میں  18 سے 22 ستمبر کے درمیان ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے لیے اپوزیشن جماعتیں اپنی حکمت عملی طے کریں گی۔اگرچہ پانچ روزہ اجلاس کا ایجنڈا ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔

میٹنگ شروع ہونے سے قبل ایسا مانا جارہا تھا کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے طریقہ کار پر بات ہوگی لیکن میٹنگ میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ تین گھنٹے تک چلنے والی اس میٹنگ سے نکل کر کانگریس رہنما الکا لامبا نے میٹنگ کے اندر کی خبر دی ۔

وزیر اعظم مودی، پچھلے 10 سالوں سے آپ نےصرف توڑنے کی منفی سیاست کی ہے۔ آپ کی آواز سے اب 'انڈیا' کے لیے بھی تلخ الفاظ نکل رہے ہیں۔ آپ پچھلے 3 مہینوں سے منی پور کے تشدد پر قابو نہیں پا سکے ہیں۔ آپ کی تفرقہ انگیز سیاست نے برادریوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے جس سے خانہ جنگی جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔