Bharat Express DD Free Dish

Maharashtra Political Crisis

ان خبروں کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ "آپریشن ٹائیگر" کے تحت بعض اراکین حکمراں شیوسینا کا رخ کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں اتوار کامیٹنگ انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔خاص طور پر رکن پارلیمنٹ سنجے عرف بندو جادھو کی سرگرمیوں پر سب کی نظریں مرکوز ہیں،

مہاراشٹر میں بی ایم سی انتخابات جوں جوں قریب آرہے ہیں، ریاست کی حکمراں مہایوتی میں اختلافات کھل کر سامنے آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بی جے پی، ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور این سی پی (اجیت پوار) کے اتحاد کو بنے زیادہ وقت نہیں گزرا، لیکن سیاسی ماحول میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر شیو سینا لیڈر اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے تازہ بیان اور شیو سینا کے دفتر پر چھاپے کے بعد حالات مزید پیچیدہ ہوتے دکھ رہے ہیں۔

بہت سے ارکان پارلیمنٹ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ وہ اگلے پانچ سال تک ایک مضبوط مخلوط حکومت میں رہنا چاہتے ہیں۔ اس وقت انہیں پیسے جمع کرنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔ جب وہ شندے گروپ میں شامل ہوں گے تو انہیں مرکز کے ساتھ ساتھ ریاست میں بھی فائدہ ملے گا۔

دی ہندو' کی رپورٹ کے مطابق ممبئی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، "اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن فارم نمبر 7 کو قبول نہ کرے اور آن لائن درخواست کو روک دینا چاہئے،

شیوسینا (یو بی ٹی) سیٹ شیئرنگ میں نانا پٹولے کے رویہ سے ناراض ہے۔ شیوسینا کے سنجے راوت نے ادھو ٹھاکرے کو موجودہ صورتحال کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی  ہے۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا، "موہن بھاگوت جی  کیا آپ بی جے پی کے ہندوتوا سے اتفاق کرتے ہیں؟ اس بی جے پی میں غنڈے آرہے ہیں، کرپٹ لوگ آرہے ہیں۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ امت شاہ مجھے ختم کرنے آرہے ہیں۔ اور شرد پوار کیا آپ ہمیں ختم ہونے دیں گے؟"

سپریم کورٹ نے اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کو نا اہلی سے متعلق عرضیوں پر 31 دسمبر تک فیصلہ دینے کے لئے کہا تھا۔ اس کے بعد اسے 10 جنوری تک بڑھایا گیا، جس کا آج آخری دن ہے۔

 سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ معاملہ آئندہ الیکشن تک زیر التوا رہے۔ اگراسپیکر سماعت نہیں کرسکتے تو ہم کریں گے۔ ہم نے باربار اسپیکر سے فیصلہ لینے کے لئے کہا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے 17 اکتوبر کو  نارویکر کو شیو سینا کے حریف گروپ کی طرف سے پارٹی میں تقسیم کے بعد ایک دوسرے کے ایم ایل ایز کو نااہل قرار دینے کے لیے دائر کی گئی کراس پٹیشنز پر فیصلہ کرنے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ ٹائم فریم دینے کا آخری موقع دیا۔

سپریم کورٹ نے منگل کے روزکہا کہ اگرمہاراشٹر کے اسپیکراراکین اسمبلی کی نااہلی کے معاملے کے حل کے لئے ڈیڈ لائن نہیں طے کریں تو عدالت اسے طے کردے گا۔