Bharat Express DD Free Dish

Madhya Pradesh

پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں پیش آئے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر مجھے گہرا دکھ ہوا ہے۔ اس مشکل وقت میں میری ہمدردیاں متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

عدالت نے ریاستی وکیل کی جانب سے پیش کردہ ’’گمراہ کن حلف ناموں‘‘ پر بھی سوالات اٹھائے اور معاملے میں تاخیر پر ناراضی کا اظہار کیا۔

ڈی آر آئی (ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس) نے ’آپریشن کرسٹل بریک‘ کے ذریعے مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے مضافاتی علاقے جگدیش پورہ میں چھاپہ مارا تھا۔ گزشتہ ماہ ہوئی اس چھاپہ ماری کے دوران تقریباً 92 کروڑ روپے مالیت کا 61.20 کلو گرام لکوڈ میفیڈرون اور تقریباً ساڑھے پانچ سو کلو خام مال برآمد کیا گیا تھا۔ جس فیکٹری سے یہ مال برآمد ہوا، وہ کافی عرصے سے چل رہی تھی۔ ایسے میں مقامی پولیس اور ایجنسیوں کے کام کاج پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بائک پر سوار کچھ نوجوانوں کی اس بات پر پٹرول پمپ کے ملازمین سے جھڑپ ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ جھگڑے کے بعد نوجوان پٹرول پمپ سے نکل گئے لیکن آدھے گھنٹے بعد وہ ہتھیاروں سے لیس واپس آئے اور پٹرول پمپ پر فائرنگ کر دی۔

لڑکی کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ لڑکی کی موت بیماری کے باعث ہوئی ہے اور اس کی آخری رسومات ادا کی جانی ہیں۔ وہ ان معلومات کی بنیاد پر یہاں آئے ہیں۔ پولیس لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے آئی۔

گروپ کے ایک رکن نے بتایا کہ گجرات کے ایک شخص نے کاشی وشوناتھ مندر میں شیو کتھا کا اہتمام کیا تھا۔ وہ سب ایک ہی شیو کتھا کے لیے گئے تھے۔ یہ حادثہ وہاں سے واپسی کے دوران پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً سبھی سو رہے تھے کہ اچانک ٹکر ہو گئی۔

وزیر اعلیٰ یادو نے وزیر اعظم مودی کو دبئی اور اسپین کے اپنے حالیہ صنعتی سرمایہ کاری کے دوروں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

مرہٹہ دور میں گنجی کو اس وقت خاص اہمیت ملی جب 1689 میں شیواجی کے بیٹے راجارام نے مغل حملوں سے بچنے کے لیے یہاں پناہ لی۔

اتوار کے روز اسی طرح کے ایک واقعے میں ڈیزل سے لدی ایک مال بردار ٹرین میں تمل ناڈو کے تروولور کے قریب آگ لگ گئی تھی، جس میں ٹرین کی کم از کم 19 ویگنیں جل گئیں۔

دموہ ضلع کے جمونکھیڑا گاؤں میں پانچ ایکڑ زمین کے مالک کسان اجیار سنگھ لودھی اس اسکیم کے فوائد سے بہت مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان سمان ندھی کا فائدہ ہمیں مل رہا ہے۔ ہر چار ماہ بعد ملنے والی 2,000 روپے کی قسط اس کے لیے بہت سی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ہے۔ اس اسکیم کی رقم کاشتکاری سے متعلق ضروریات کے لیے مفید ہے۔