Bharat Express DD Free Dish

Madhya Pradesh

فروری کے آغاز کے ساتھ ہی شمالی اور وسطی بھارت میں موسم نے اچانک رخ بدل لیا ہے۔ دہلی-این سی آر، اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور ہماچل پردیش میں دھند، بارش، تیز ہوائیں اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو گئے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے گوالیار سے ایک حیران کن خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایک بزرگ کاروباری کو آن لائن ٹریڈنگ کے بہانے کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ دھوکہ دینے والی خاتون نے خود کو غیر ملکی شہری ظاہر کر کے کاروباری کو مالی جال میں پھنسا لیا۔ پولیس اب اس معاملے کی تفتیش میں مصروف ہے۔

مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں ایک لڑکی نے اپنے بچپن کے پیار پانے کا نام دے کر سناتن دھرم اپنایا ہے اورپھر اپنے عاشق کے ساتھ سات پھیرے لئے۔ لڑکی نے اپنا نام سفینہ سے بدل کر سمرن کرلیا۔

سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو وزیر وجے شاہ کے خلاف کرنل صوفیہ قریشی پر قابل اعتراض تبصرہ معاملے میں مقدمہ چلانے کی منظوری پردو ہفتے میں فیصلہ لینے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کو مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹوارى نے دعویٰ کیا تھا کہ بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پینے کے پانی کی وجہ سے اب تک 24 افراد کی موت ہو چکی ہے، جب کہ 8 سے 10 مریضوں کی حالت نہایت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔

مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے مطابق، پورے صوبے میں ریاست گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔ اندور میں کانگریس کارکن مہاتما گاندھی کے مجسموں کے قریب دھرنا دیں گے اور حکومت کے خلاف آواز بلند کریں گے۔

سامنے سے آ رہی ٹریکٹر ٹرالی سے اس کی زوردار ٹکر ہو گئی۔ ٹکر کے نتیجے میں لوڈنگ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار کئی افراد بری طرح پھنس گئے، جنہیں مقامی لوگوں اور پولیس کی مدد سے نکالا گیا۔

تیجاجی نگر جیسے بائی پاس راستوں پر پہلے بھی اس طرح کے جان لیوا حادثات ہو چکے ہیں۔ مقامی افراد اور سماجی کارکنان ایسی المناک وارداتوں کو روکنے کے لیے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور بہتر بنیادی ڈھانچے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے دتیہ ضلع کے اندرگڑھ قصبے میں شدید ٹریفک جام کے باعث ایک نوجوان کو بروقت اسپتال نہ پہنچایا جا سکا، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہو گئی۔ اس دردناک واقعے نے ایک بار پھر انتظامیہ، ضلع انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ سیور کا پانی پینے کے پانی میں کیسے شامل ہوا، وقت پر سپلائی بند کیوں نہیں کی گئی اور ذمہ دار افسران و رہنماؤں کے خلاف کارروائی کب ہوگی۔ ان کے مطابق یہ محض سوال نہیں بلکہ جواب دہی کا مطالبہ ہے۔