Bharat Express DD Free Dish

Live-In Relationship

عدالت نے کہا کہ اگر دو بالغ افراد اپنی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اسے غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی شادی شدہ مرد کا کسی بالغ خاتون کے ساتھ رہنا بذات خود جرم کے دائرے میں نہیں آتا۔

اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر انہیں پولیس تحفظ دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بجائے بنچ نے کہا کہ مذہب اسلام ایسے تعلق کی اجازت نہیں دیتا، خاص طور پر موجودہ کیس کے حالات میں۔

ہائی کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئےکہا کہ سماج کے کچھ لوگوں میں اپنائی جانے والی لیوان ریلیشن شپ ابھی بھی ہندوستانی تہذیب میں'کلنک' کے طور پرجاری ہے، کیونکہ لیو ان ریلیشن شپ ایک امپورٹیڈ تصور ہے، جوکہ ہندوستانی رسم ورواج کی عام توقعات کے خلاف ہے۔

محبت کرنے والے جوڑے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس رینو اگروال کی سنگل بنچ نے کہا کہ مذہب کی تبدیلی صرف شادی کے مقصد کے لیے ضروری نہیں ہے بلکہ یہ شادی کی نوعیت کے تمام رشتوں میں بھی ضروری ہے، اس لیے مذہب تبدیل کیے بغیر لیو ان ریلیشن شب میں رہنا غیر قانونی ہے۔

نئے قانون میں لیو ان ریلیشن شپ سے پیدا ہونے والے بچوں کو بھی حقوق دیے گئے ہیں۔ بچہ مرد پارٹنر کی جائیداد کا حقدار ہوگا۔

ایک جوڑے نے لیو ان ریلیشن شپ کا ریکارڈ بنایا اور اب 75 سال ساتھ رہنے کے بعد شادی کر لی۔

کیس کی سماعت کے دوران بنچ نے محسوس کیا کہ مرد پارٹنر نہ صرف شادی شدہ تھا بلکہ اس کی ایک 2 سال کی بیٹی بھی تھی۔ یہی نہیں ان کے جیون ساتھی کی جانب سے کسی بھی عدالت میں طلاق کی درخواست دائر نہیں کی گئی۔