Bharat Express DD Free Dish

Lebanon

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

میا خلیفہ نے آنسوبہاتے ہوئے امریکی حکومت پرشدید الزام عائد کرتے ہوئے اسے پاگل پن قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں کئی دہائیوں سے نسل کشی ہورہی ہے، لیکن پچھلے تین چار سالوں میں یہ اوربھی خطرناک ہوگیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

ڈی جی سی اے کی ہدایت کے مطابق مخصوص شرائط کے تحت عمان اور سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کی جا سکتی ہے، تاہم ایئرلائنز کو ان علاقوں میں 32 ہزار فٹ سے کم بلندی پر پرواز نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

لبنان سے 177 بھارتی شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے جبکہ قطر سے بھی 500 سے زائد بھارتی شہری تجارتی پروازوں کے ذریعے ہندوستان روانہ ہو چکے ہیں۔ بھارتی سفارت خانوں نے صورتحال کے پیش نظر ہنگامی ہیلپ لائنیں فعال کر دی ہیں اور شہریوں کے لیے خصوصی سکیورٹی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

پیر کی رات کیے گئے حملوں میں آئی ڈی ایف نے جنوبی لبنان کے چار دیہات اور ملک کی مشرقی سرحد کے قریب واقع عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

شیخ نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے مسائل ’’اسرائیلی حملوں اور امریکہ کے حمایت یافتہ قبضے‘ کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بحرانوں کے حل کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اسرائیل اپنے حملوں کو مکمل طور پر روکے، مقبوضہ لبنانی علاقوں سے ہٹے، قیدیوں کو رہا کرے اور ملک کی تعمیر نو کے ذریعے لبنان کی خودمختاری کو بحال کرے۔

لبنان اور شام 1948 سے اسرائیل کے ساتھ تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔ دمشق کی جانب سے بھی اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بات کو ’’قبل از وقت‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع نے جمعہ کو کہا کہ اگر اسرائیل کی شمالی برادریوں میں امن نہیں رہے گا تو بیروت میں بھی امن قائم نہیں رہنے دیں گے۔