Bharat Express DD Free Dish

Law and order

دہلی پولیس نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں ایک شخص خود کو دہلی پولیس کا سب انسپکٹر بتا رہا ہے اور احتجاج میں شامل ہونے کے لیے استعفیٰ دینے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ پولیس کے مطابق دہلی پولیس کے ریکارڈ کی تصدیق سے ویڈیو میں کیے گئے دعوے سے مماثل کوئی سب انسپکٹر نہیں ملا۔ پولیس نے کہا کہ یہ ویڈیو جھوٹی اور گمراہ کن ہے اور بظاہر غلط معلومات پھیلانے کی دانستہ کوشش ہے۔ 

پولیس نے مختلف مقامات سے متعدد مظاہرین اور تشدد میں ملوث افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس ویڈیو فوٹیج کی مدد سے تشدد میں ملوث دیگر افراد کی بھی شناخت کر رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں 10 آئی پی ایس اور ڈینیپس افسران شامل ہیں۔ پولیس کے پاس تشدد سے متعلق 40 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔

پولیس نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ کسی بھی پلیٹ فارم پر افواہوں، غلط معلومات یا غیر مصدقہ مواد پر یقین نہ کریں اور نہ ہی اسے آگے پھیلائیں۔ پوسٹ میں کہا ’’شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ معلومات کے لیے صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں اور امن، ہم آہنگی اور عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں دہلی پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔‘‘

مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی شخص ’’وندے ماترم‘‘ کی توہین کا مرتکب پایا گیا تو اسے تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ یہی سزا اس وقت قومی ترانے ’جن گن من‘ کی توہین کے معاملے میں بھی نافذ ہے۔

ریاستی انٹیلی جنس بیورو (SIB) کی جانب سے جاری ایک خفیہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) کے تحت پولیس کو سوشل میڈیا، انکرپٹڈ میسجنگ ایپس، مذہبی تنظیموں اور بعض رویوں کی نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے گجرات کے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر اس ایس او پی پر عمل درآمد روکنے اور اس کا آزادانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ان درخواستوں پر جواب طلب کیا ہے جن میں عطیات کی مبینہ خرد برد کی آزادانہ اور عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع تین منزلہ عمارت میں پیش آیا تھا، جہاں ایک گیمنگ اور اینی میشن اسٹوڈیو قائم تھا۔  آتشزدگی کے نتیجے میں 15 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں طلبہ، تربیت حاصل کرنے والے نوجوان اور اسٹوڈیو کے عملے کے ارکان شامل تھے۔

اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ بھی طاہر حسین کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔ اب اس اہم مقدمے میں تمام فریقین کی نظریں 7 جولائی پر مرکوز ہیں، جب عدالت کی جانب سے اس حساس مقدمے میں فیصلہ سنائے جانے کی توقع ہے۔

التجا مفتی نے کہا ہے کہ اگر ایک پولیس افسر کی بیٹی بھی محفوظ نہیں تو پھر عام شہریوں کی حفاظت کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق بڈگام میں ’’ایک خطرناک شخص آزاد گھوم رہا ہے‘‘ جسے فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔

یہ معاملہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران پیش آیا تھا، جب راج بھر کی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کی جانب سے رتن پورہ بازار میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس جلسے میں راج بھر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کے لوگ ووٹ مانگنے آئیں تو انہیں جوتوں سے مارا جائے۔