Bharat Express DD Free Dish

Law and order

ریاستی انٹیلی جنس بیورو (SIB) کی جانب سے جاری ایک خفیہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) کے تحت پولیس کو سوشل میڈیا، انکرپٹڈ میسجنگ ایپس، مذہبی تنظیموں اور بعض رویوں کی نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے گجرات کے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر اس ایس او پی پر عمل درآمد روکنے اور اس کا آزادانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ان درخواستوں پر جواب طلب کیا ہے جن میں عطیات کی مبینہ خرد برد کی آزادانہ اور عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع تین منزلہ عمارت میں پیش آیا تھا، جہاں ایک گیمنگ اور اینی میشن اسٹوڈیو قائم تھا۔  آتشزدگی کے نتیجے میں 15 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں طلبہ، تربیت حاصل کرنے والے نوجوان اور اسٹوڈیو کے عملے کے ارکان شامل تھے۔

اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ بھی طاہر حسین کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔ اب اس اہم مقدمے میں تمام فریقین کی نظریں 7 جولائی پر مرکوز ہیں، جب عدالت کی جانب سے اس حساس مقدمے میں فیصلہ سنائے جانے کی توقع ہے۔

التجا مفتی نے کہا ہے کہ اگر ایک پولیس افسر کی بیٹی بھی محفوظ نہیں تو پھر عام شہریوں کی حفاظت کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ ان کے مطابق بڈگام میں ’’ایک خطرناک شخص آزاد گھوم رہا ہے‘‘ جسے فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔

یہ معاملہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران پیش آیا تھا، جب راج بھر کی پارٹی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کی جانب سے رتن پورہ بازار میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ اس جلسے میں راج بھر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی کے لوگ ووٹ مانگنے آئیں تو انہیں جوتوں سے مارا جائے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو طے ہے۔ انتخابات سے قبل ریاست میں سیاسی ماحول کافی گرم ہے، جہاں ایک طرف بی جے پی جارحانہ مہم چلا رہی ہے تو دوسری طرف ٹی ایم سی بھی اپنے دفاع میں سرگرم ہے۔ 

احتجاج کے دوران بی جے پی خواتین اراکین پارلیمنٹ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہی تھیں۔ جن لیڈروں کو حراست میں لیا گیا ان میں مرکزی وزیرمملکت رکشا کھڈسے، بی جے پی رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج اور کمل جیت سہراوت شامل ہیں۔

شالینی سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ہزاروں افراد اکٹھا ہو کر تشدد پر اتر آئیں تو یہ واضح طور پر پولیس اور خفیہ نظام کی ناکامی ہے۔  انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ انتظامیہ کو اس احتجاج کے ممکنہ خطرناک رخ کا اندازہ تک نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ سکیورٹی نظام میں بڑی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔