Bharat Express DD Free Dish

Do Not Share Rumours: ’’افواہیں شیئر نہ کریں‘‘ جنتر منتر احتجاج سے متعلق گمراہ کن معلومات پر دہلی پولیس کی سخت کارروائی کی وارننگ

دہلی پولیس نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں ایک شخص خود کو دہلی پولیس کا سب انسپکٹر بتا رہا ہے اور احتجاج میں شامل ہونے کے لیے استعفیٰ دینے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ پولیس کے مطابق دہلی پولیس کے ریکارڈ کی تصدیق سے ویڈیو میں کیے گئے دعوے سے مماثل کوئی سب انسپکٹر نہیں ملا۔ پولیس نے کہا کہ یہ ویڈیو جھوٹی اور گمراہ کن ہے اور بظاہر غلط معلومات پھیلانے کی دانستہ کوشش ہے۔ 

نئی دہلی: دہلی پولیس نے جمعہ کو جنتر منتر پر جاری طلبہ احتجاج سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل دو دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے انہیں ’’جھوٹا اور گمراہ کن‘‘ قرار دیا۔ پولیس نے افواہیں اور جعلی مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ پولیس نے پہلے ایک وائرل ویڈیو کے بارے میں وضاحت جاری کی، جس میں ایک شخص نے خود کو دہلی پولیس کا سب انسپکٹر بتاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حال ہی میں ملازمت سے استعفیٰ دے کر طلبہ کے احتجاج میں شمولیت اختیار کی ہے۔ داخلی جانچ کے بعد پولیس نے واضح کیا کہ اس تفصیل سے مماثل کوئی افسر اس کے سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔

جعلی مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی

دہلی پولیس نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں ایک شخص خود کو دہلی پولیس کا سب انسپکٹر بتا رہا ہے اور احتجاج میں شامل ہونے کے لیے استعفیٰ دینے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ پولیس کے مطابق دہلی پولیس کے ریکارڈ کی تصدیق سے ویڈیو میں کیے گئے دعوے سے مماثل کوئی سب انسپکٹر نہیں ملا۔ پولیس نے کہا کہ یہ ویڈیو جھوٹی اور گمراہ کن ہے اور بظاہر غلط معلومات پھیلانے کی دانستہ کوشش ہے۔ پولیس نے خبردار کیا کہ جعلی مواد بنانے، پھیلانے یا اسے مزید فروغ دینے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ صرف دہلی پولیس کی جانب سے جاری سرکاری معلومات پر اعتماد کریں اور غیر مصدقہ دعوے شیئر نہ کریں۔

خاتون پولیس افسر کے اسقاط حمل کا دعویٰ بھی غلط

دہلی پولیس نے ایک دوسرے وائرل دعوے کی بھی تردید کی، جس میں کہا گیا تھا کہ احتجاج کے دوران ایک خاتون پولیس افسر کا حمل ضائع ہو گیا۔ پولیس نے واضح کیا کہ مذکورہ خاتون افسر کو بھگدڑ جیسی صورت حال کے دوران چوٹیں آئی تھیں اور وہ طبی نگرانی میں ہیں، لیکن وہ نہ شادی شدہ ہیں اور نہ ہی حاملہ ہیں۔ پولیس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر افسر کے زخمی ہونے کے بعد کی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ غیر مصدقہ معلومات کو شیئر یا مزید پھیلانے سے گریز کریں اور صرف سرکاری اپ ڈیٹس پر بھروسہ کریں۔

20 جولائی کے مارچ کے بعد کشیدگی میں اضافہ

یہ وضاحتیں 20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے منعقدہ ’چلو سنسد‘ مارچ کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہیں۔ طلبہ نے کئی ہفتوں سے جاری احتجاج اور بھوک ہڑتال کے بعد مبینہ امتحانی پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا تھا۔ جب مظاہرین نے وسطی دہلی میں سکیورٹی بیریکیڈز کو عبور کرنے کی کوشش کی تو سکیورٹی اہلکاروں نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بعض ویڈیوز میں مظاہرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی دکھائی گئی، تاہم دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال اس وقت کیا گیا جب بھیڑ کے ایک حصے نے تشدد کیا اور مبینہ طور پر پتھراؤ کیا۔

پیپر لیک کے خلاف قانون میں ترمیم کو کابینہ کی منظوری

دریں اثنا، نیٹ امتحانی پرچہ لیک معاملے پر ملک گیر احتجاج کے درمیان مرکزی کابینہ نے ’پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف اَن فیئر مینز) ایکٹ، 2024‘ میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔ امکان ہے کہ ترمیمی بل پر پیر، 27 جولائی کو پارلیمنٹ میں غور اور اسے منظور کرنے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس سے قبل جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے نمائندوں نے مرکزی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد سی جے پی نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر غور کے لیے ہفتہ کی دوپہر تک کا وقت مانگا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read