Bharat Express DD Free Dish

Kim Jong Un

تبدیلیوں کی مخصوص تفصیلات فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی ہیں، کیونکہ شمالی کوریا نے پہلے بھی آئینی ترامیم کو ظاہر کرنے میں تاخیر کی ہے۔ جہاں تک سمندری حدود کا تعلق ہے، شمالی کوریا ممکنہ طور پر اسے مبہم انداز میں پیش کرے گا، تاکہ وہ مستقبل میں قوانین کے ذریعے اپنا موقف واضح کر سکے۔

شمالی کوریا کے آمر کم جونگ نے کہا ہے کہ اگر ہمیں اشتعال دلایا گیا تو ہم دشمن کو ایٹمی ہتھیاروں سے تباہ کر کے اس کا وجود ختم کر دیں گے۔

وزارت نے کہا، ’’اس طرح کے بیلسٹک میزائل سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ یہ جاپانی عوام کی سلامتی سے متعلق ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جاپان نے اس معاملے پر شمالی کوریا سے سخت احتجاج درج کرایا ہے۔‘‘

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ یعنی  جولائی میں، کم جونگ اُن نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا معائنہ کیا تھااور متاثرہ افراد کے ساتھ بات چیت کی تھی ، انہوں نے کہا کہ ڈوبے ہوئے علاقوں کو مکمل طور پر بحال کرنے میں مہینوں لگیں گے۔

خودکش ڈرون دھماکہ خیز مواد لے جانے والے ڈرون ہیں، انہیں ہدف کے قریب گرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جو ہدف سے ٹکرانے کے بعد خود کو تباہ کر لیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ہدف کو بھی تباہ کرتا ہے۔

کم جونگ کی جانب سے بھاری قیمت چکانے کی دھمکی کے بعد جنوبی کوریا نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے۔ جنوبی کوریا نے کہا کہ اگر شمالی کوریا نے جوہری ہتھیار استعمال کیے تو وہ اسے تباہ کر دے گا۔

1999 میں روس کے صدر بننے کے اگلے ہی سال ولادیمیرپوتن شمالی کوریا گئے تھے۔ پھر ولادیمیرپوتن نے کم جونگ ان کے والد کم جونگ ال سے ملاقات کی تھی۔ ولادیمیرپوتن اب 24 سال بعد شمالی کوریا کا دورہ کر رہے ہیں۔

اس ماہ کے شروع میں، شمالی کوریا نے ایک نیا ہائپر سونک انٹرمیڈیٹ رینج بیلسٹک میزائل لانچ کیا تھا۔ جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس سے شمالی کوریا کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔

پیانگ یانگ کا تازہ ترین اعلان شمالی کوریا کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب کم نے "نئے لیس سپر لارج" متعدد راکٹ لانچروں پر مشتمل مشقوں کی نگرانی کی۔ شمالی کوریا 2022 سے میزائل تجربات کی اشتعال انگیز دوڑ میں مصروف ہے۔

شمالی کوریا نے منگل کے روز کہا کہ اس نے ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے تاکہ امریکہ کی بڑھتی ہوئی دشمنی کے خلاف اپنی جوہری طاقت میں اضافہ کیا جا سکے۔ شمالی کوریا کی جانب سے کیے گئے اس تجربے کی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مذمت کی ہے۔