Bharat Express DD Free Dish

Kim Jong Un

شمالی کوریا نے منگل کے روز کہا کہ اس نے ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے تاکہ امریکہ کی بڑھتی ہوئی دشمنی کے خلاف اپنی جوہری طاقت میں اضافہ کیا جا سکے۔ شمالی کوریا کی جانب سے کیے گئے اس تجربے کی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مذمت کی ہے۔

کم جونگ ان نے ملک میں گرتی ہوئی شرح پیدائش پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے لیے انہوں نے ایک میٹنگ کا اہتمام کیا اور ملک کی خواتین میں شرح پیدائش بڑھانے کی اپیل کی۔ شمالی کوریا کے رہنما کو پیانگ یانگ میں ہزاروں خواتین سے خطاب کے دوران سفید رومال سے آنکھیں بند کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ پروگرام کے دوران ان کے ساتھ حاضرین میں سے بہت سے لوگ بھی رو پڑے۔

شمالی کوریا مستقبل میں اس طرح کے مزید جاسوس سیٹلائٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ شمالی کوریا کے اس قدم سے جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت دنیا کی نظریں اس بات پرمرکوز ہیں کہ کم جونگ کے دورہ روس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ دونوں رہنماؤں کے درمیان پانچ گھنٹے کی بند کمرے میں ہونے والی ملاقات کی نہ تو شمالی کوریا اور نہ ہی روس نے کوئی تفصیلات جاری کی ہیں، لیکن یہ کوئی راز نہیں ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں

مغربی ممالک نے روس اور شمالی کوریا پر کئی پابندیاں عائد کر کے انہیں تنہا کر دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ روس نے شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت میں پیش قدمی کی ہے تاکہ توپ خانے اور راکٹوں کے ذخیرے تک رسائی حاصل کی جا سکے جو ماسکو یوکرین میں اپنی جنگ میں استعمال کر سکتا ہے۔

کم جونگ اُن نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن کو اپنے ملک کے سلامتی کے دفاع کے لیے روس کی "مقدس لڑائی" کے لیے "مکمل اور غیر مشروط حمایت" کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ پیانگ یانگ "سامراج مخالف" محاذ پر ہمیشہ ماسکو کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

روسی خبر رساں ایجنسی 'تاس' کے مطابق اس ملاقات کا ممکنہ مقام مشرقی روس کا شہر ولادی ووستوک ہے جہاں ولادیمیر پوتن پیر کو بدھ تک جاری رہنے والی ایک بین الاقوامی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔ سال 2019 میں ولادیمیر پوتن نے پہلی بار کم سے اس جگہ ملاقات کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے درمیان ایک خصوصی ملاقات کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جو اس ماہ کے اندر ہو گی۔

ری یونگ اس سے قبل آرمی چیف آف اسٹاف بھی رہ چکے ہیں۔ جب ان کو 2016 میں تبدیل کیا گیا تو ان کی برطرفی اور اس کے بعد سرکاری تقریبات سے غیر حاضری نے جنوبی کوریا میں رپورٹس کو جنم دیا کہ اسے پھانسی دے دی گئی ہے۔ حالانکہ  جب انہیں ایک اور سینئر عہدے پر نامزد کیا گیا تووہ کچھ مہینوں بعد دوبارہ نمودار ہوئے۔