Bharat Express DD Free Dish

Kim Jong Un

شمالی کوریا نے اتوار کے روز سمندر کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ یہ میزائل اتوار کی صبح شمالی کوریا کے مشرقی شہر سنپو کے علاقے سے داغے گئے، جس کے بعد جاپان اور جنوبی کوریا الرٹ موڈ میں آ گئے۔ شمالی کوریا نے ایک ماہ میں چوتھی بار بیلسٹک میزائل لانچ کیا ہے۔

امریکہ-ایران جنگ میں اب کم جونگ اُن کی وائلڈ کارڈ انٹری ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان اور جنوبی کوریا کو تنبیہ دیتے ہوئے ان پر تنقید کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان ممالک نے امریکہ کی مدد نہیں کی۔

پیانگ یانگ کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے پر بات چیت ٹوٹنے سے قبل ٹرمپ اور کِم کی دو سربراہی ملاقاتیں 2018 اور 2019 میں ہو چکی ہیں۔ شمالی کوریا پر ان ایٹمی ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی وجہ سے سخت بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

شمالی کوریا آج دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتا ہے جو ایٹمی طاقت کے بل پر عالمی سیاست میں اپنی موجودگی درج کراتا آیا ہے۔ اس ملک کے موجودہ حکمران کم جونگ اُن نہ صرف دنیا کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں بلکہ وہ جوہری ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ تیار کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ کم جونگ اُن ایک آمر، سخت گیر اور بے رحم رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

تینوں لیڈران اسٹیج پر اکٹھے پہنچے اور دوستانہ گفتگو کی، چین، روس اور شمالی کوریا کے درمیان یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ تینوں لیڈران اس وقت تک بات کرتے رہے جب تک کہ تیانمن اسکوائر پر ایک شاندار تقریب کے ساتھ پریڈ شروع نہیں ہوئی۔

یہ تقریب صرف چین کی فوجی طاقت کی نمائش نہ تھی بلکہ اس کا اصل پیغام بین الاقوامی سیاست میں چین، روس اور شمالی کوریا کے گہرے تعلقات اور مغرب کو ایک واضح اشارہ تھا۔ تینوں رہنماؤں کی مشترکہ موجودگی

کم جونگ نے اس بات پر زور دیا کہ اسلحہ فیکٹریوں میں آٹومیشن یعنی بغیر انسانی مدد والے پروڈکشن کو فروغ دیا جائے۔ فیکٹریوں کو اس طرح ڈیزائن کیا جائے کہ کم از کم انسانی مداخلت ہو، مشینیں خود سے کام کریں۔

جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان نے 15 نومبر کو جنوبی کوریا کے جنوبی جزیرے جیجو کے جنوب مںم بنو الاقوامی پانواں مںل تن روزہ سہ فریی فریڈم ایج مشق کا اختتام کاج۔ پر کے روز 6000 ٹن وزنی یو ایس ایس کولمبار جنوبی کوریا کے بحری اڈے بوسان مںا داخل ہوا۔

جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی اس وقت سے بڑھ گئی ہے جب شمالی کوریا نے اپنے پڑوسی پر ملک کے دارالحکومت پیانگ یانگ پر پروپیگنڈہ کتابچے والے ڈرون بھیجنے کا الزام لگایا تھا۔یہ دھماکے ایک دن بعد ہوئے جب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے اپنے اعلیٰ فوجی اور سکیورٹی حکام کے ساتھ ایک میٹنگ بلائی تھی۔

وزیر دفاع کم نے پارلیمانی آڈٹ سیشن کے دوران قانون سازوں کو بتایا کہ ’’چونکہ روس اور شمالی کوریا نے ایک فوجی اتحاد کی طرح ایک باہمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اس لیے اس طرح کی تعیناتی کا امکان بہت زیادہ ہے۔‘‘