Bharat Express DD Free Dish

Kapil Dev

ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈیبیو کے ٹھیک ایک سال بعد بھارتی ٹیم میں جگہ بنانے والے ایشانت نے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی گیند بازی سے متاثر کیا اور جلد ہی ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹ میں بھارتی تیز گیند بازی کا اہم چہرہ بن گئے۔

بھارتی کرکٹ کے اسٹار آل راؤنڈر رویندر جڈیجا نے ایک اور شاندار سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ 350 سے زیادہ وکٹیں اور 4000 سے زائد رنز بنانے کے بعد جڈیجا نے ہندوستان کے عظیم آل راؤنڈرز کے خصوصی کلب میں جگہ بنا لی ہے، جہاں ان سے پہلے صرف کپل دیو جیسے لیجنڈ کا نام شامل تھا۔

آسٹریلیا کے تجربہ کار فاسٹ بولر مچل اسٹارک کی نظریں 13 اگست سے بنگلہ دیش کے خلاف شروع ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کپل دیو اور ڈیل اسٹین کے ایک بڑے ریکارڈ پر جمی ہوئی ہیں۔ تاہم اسٹارک کا کہنا ہے کہ انفرادی کامیابیاں ان کے لیے ہمیشہ ٹیم کے مفاد کے بعد آتی ہیں۔

انگلینڈ نے دوسرے دن کا آغاز 4 وکٹ پر 251 رنز سے کیا تھا۔ جیمی اسمتھ اور بریڈن کارس کی نصف سنچریوں کے علاوہ باقی ٹیم بھارتی بولرز کے سامنے بے بس نظر آئی۔

کپل دیو نے کہا کہ اڈانی انٹرنیشنل اسکول میں میرا بہت اچھا وقت گزرا۔ یہاں کھیلوں کی سہولیات شاندار ہیں، اور اڈانی انٹرنیشنل اسکول کو اس طرح کے اقدامات کے ذریعے شہر میں ایک مضبوط اسپورٹس کلچر کو فعال طور پر فروغ دیتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ہندوستانی کھیلوں میں ان کے انمول شراکت کے لیے نیک خواہشات۔"

پی ایم کرسٹوفر لکسن نے اپنے سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’نیوزی لینڈ اور ہندوستان کو کرکٹ سے ہماری مشترکہ محبت سے زیادہ کوئی  اور چیز متحد نہیں کرتی ہے‘‘۔

پروفیشنل گولف ٹور آف انڈیا (PGTI) ہندوستان میں مردوں کے پیشہ ورانہ گولف کے لیے گورننگ اور منظوری دینے والا ادارہ ہے۔ ہندوستانی کرکٹ لیجنڈ اور پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ کپل دیو پی جی ٹی آئی کے چیئرمین ہیں۔

کپل دیو نے مذاق کے انداز میں کہا کہ کرکٹر سے بڑا کوئی چور نہیں وہ رنز چراتا ہے۔ لیکن اس کی چوری بھی مثبت ہے اور زندگی کے تئیں ایسا مثبت نقطہ نظر پدم جیت سہراوت کی نظموں میں نظر آتا ہے۔

یوگراج سنگھ کا یہ بیان سوشل میڈیا پرخوب  وائرل ہو رہا ہے، جس پر لوگ الگ الگ طرح سے  ردعمل دے رہے ہیں۔ کچھ لوگ  تو یوگراج سنگھ پر سخت تنقید کر رہے ہیں ۔

سال 2024 میں وہ ٹیسٹ کرکٹ میں اب تک سب سے زیادہ وکٹیں لینے کے معاملے میں پہلے نمبر پر ہیں، جس میں انہوں نے 13 میچوں میں 15.32 کی اوسط سے 67 وکٹیں حاصل کی ہیں۔