Bharat Express DD Free Dish

Justice Yashwant Varma

داخلی تحقیقاتی کمیٹی نے جسٹس ورما کو دہلی کی رہائش گاہ سے نقدی کی وصولی کے معاملے میں بدعنوانی کا قصوروارپایا تھا۔ یہ واقعہ مارچ میں پیش آیا تھا، جب مبینہ طورپر ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بھاری مقدارمیں جلے ہوئے کرنسی نوٹ ملے تھے۔ اس دوران جسٹس ورما دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس تھے۔

ابتدائی طور پر، جسٹس دتا نے ایک طریقہ کار پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ یہ درخواست دائر نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ درخواست میں تین فریقین ہیں، آپ کا بنیادی مسئلہ سپریم کورٹ کے ساتھ ہے۔سبل نے کہا کہ وہ ضروری تبدیلیاں کریں گے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کے علاوہ بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر، روی شنکرپرساد، راجیو پرتاپ روڑی، پی پی چودھری، سپریا سولے اورکے سی وینوگوپال مواخذے کی تحریک پردستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔ پارلیمنٹ اب جسٹس ورما کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

سپریم کورٹ میں آج جسٹس یشونت ورما پر ایف آئی آردرج کرنے سے متعلق عرضی داخل کی گئی تھی۔ عدالت نے اس عرضی کو سننے سے انکارکردیا۔ آئیے جانتے ہیں کہ عدالت نے عرضی خارج کرتے ہوئے کیا کہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے منگل کے روز راشٹرپتی بھون میں صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے زبانی طور پر وکلاء کو مشورہ دیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنے پرائیویٹ سکریٹری یا رجسٹرار جنرل آف کورٹ کو درخواست دیں اور انہیں یقین دلایا کہ ان کی شکایت پر غور کیا جائے گا۔

جج یشونت ورما کے گھر نقدی ملنے کو لے کر جاری تنازعے کے درمیان حکومت نے جمعہ کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کے جج یشونت ورما کا ان کے ’’پیرنٹ ہائی کورٹ‘‘ الہ آباد تبادلہ کر دیا گیا ہے۔

جسٹس یشونت ورما کی رہائش گاہ پر 14 مارچ کولگی آگ میں بڑی مقدارمیں نقدی جلنے کی خبرسامنےآئی تھی۔ حالانکہ جسٹس ورما نے اسٹورروم میں نقدی رکھنے سے انکارکیا ہے۔ اس معاملے میں دہلی پولیس نے جائے حادثہ کا جائزہ لیا ہے اوراسٹورروم کو سیل کرنے کی کارروائی کررہی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے جج کی رہائش گاہ سے بڑی مقدار میں برآمد نقدی کے معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے۔ عرضی میں دہلی پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور مؤثرجانچ کرنے کے احکامات دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جسٹس ورما نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ یہ الزامات ان کی ساکھ کو داغدار کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آگ لگنے کے بعد ان کے عملے اور خاندان کے افراد کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر جائے وقوع سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔