جسٹس یشونت ورما کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوگئی۔
نئی دہلی: جسٹس یشونت ورما کے گھرسے نقد برآمد ہونے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اس معاملے پر چیف جسٹس نے ایک پریس ریلیزجاری کی تھی۔ رپورٹ کوصدرجمہوریہ اوروزیراعظم کے پاس بھیجا گیا ہے۔ دراصل، سپریم کورٹ کے سامنے اس معاملے میں کارروائی کے لئے ایک عرضی داخل کی گئی تھی، جس پرسماعت سے سپریم کورٹ نے انکارکردیا۔
عدالت نے کہا کہ ہم اس عرضی کو سماعت کے لئے قبول نہیں کرسکتے۔ جسٹس یشونت ورما کے گھر پرنقدی ملنے کے معاملے میں ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ عرضی میں کیا گیا تھا۔ اس پرسپریم کورٹ نے کہا کہ کمیٹی نے جانچ کی ہے اوراس کی رپورٹ صدراوروزیراعظم کوبھیج دی گئی ہے، جوسپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کے مطابق ہے۔
عرضی گزار نے کیا کہا؟
عرضی گزاراوروکیل نیدمپرا نے کہا کہ اس معاملے میں مفروضہ یہ ہے کہ رشوت دی گئی ہے، یہ جرم ہے۔ سزا کی دفعات سب کے لیے یکساں ہیں۔ ایسی صورت حال میں اگرکوئی فیصلہ بنام ہے توقانون ہی اوپرمانا جائے گا۔ اس پرسپریم کورٹ نے کہا کہ آپ بنیادی قانون کو سمجھیں۔
جسٹس یشونت ورما کے گھرسے بھاری رقم برآمد ہونے کی وجہ سے عدلیہ کوکافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تجا۔ نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکھڑنے بھی سوالات اٹھائے تھے۔ گزشتہ روزانہوں نے سپریم کورٹ کے 1991 کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس کی وجہ سے ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیرمقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
