جسٹس یشونت ورما کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوگئی۔
سپریم کورٹ نے پیر کے روز الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس یشونت ورما سے اس معاملے میں سوال کیا جہاں ان کی دہلی میں واقع سرکاری رہائش گاہ سے بغیر حساب کتاب نقدی برآمد ہوئی تھی۔ عدالت نے پوچھا کہ انہوں نے ان ہاؤس انکوائری کی قانونی حیثیت کو کیوں چیلنج کیا جبکہ وہ اس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور انکوائری کے عمل میں شامل رہے۔ان ہاؤس تحقیقات نے سابق دہلی ہائی کورٹ کے جج کے گھر سے برآمد غیر قانونی نقدی کی تصدیق کی تھی۔ جسٹس دیپانکر دتا، جو دو ججوں کی بنچ کی صدارت کر رہے تھے، نے جسٹس ورما کے وکیل، سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل سے پوچھا کہ انہوں نے ویڈیو کی ریلیز یا کمیٹی کی تشکیل کو انکوائری سے پہلے کیوں چیلنج نہیں کیا۔
جسٹس دتا نے کہاکہ کیا آپ عدالت میں یہ درخواست لے کر آئے ہیں کہ ویڈیو کو ہٹایا جائے؟ آپ نے انکوائری مکمل ہونے اور رپورٹ جاری ہونے تک انتظار کیوں کیا؟ جب کمیٹی بنائی گئی تو آپ نے چیلنج کیوں نہیں کیا؟ آپ نے انتظار کیوں کیا؟ ماضی میں ججز نے ان کارروائیوں میں حصہ لینے سے گریز کیا ہے۔ آپ پہلے بھی ہم سے رجوع کر سکتے تھے۔کپل سبل نے بنچ، جس میں جسٹس اے جی مسیح بھی شامل تھے، کو بتایاکہ کیونکہ یہ سب کچھ عوامی طور پر ہو رہا تھا، میں نے سوچا کہ کمیٹی معلوم کرے گی کہ یہ (پیسہ) کس کا ہے۔
ابتدائی طور پر، جسٹس دتا نے ایک طریقہ کار پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ یہ درخواست دائر نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ درخواست میں تین فریقین ہیں، آپ کا بنیادی مسئلہ سپریم کورٹ کے ساتھ ہے۔سبل نے کہا کہ وہ ضروری تبدیلیاں کریں گے۔سینئر وکیل نےواضح کیا کہ ایک جج کو صرف آئین کے آرٹیکل 124 میں بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق ہٹایا جا سکتا ہے۔سبل نے کہاکہ آرٹیکل 124 کے تحت ایک عمل موجود ہے۔ اس سے پہلے، ایک جج کو عوامی بحث کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔تحریک اسپیکر یا چیئرمین لوک سبھا یا راجیہ سبھا کے ذریعے دائر کیا جاتا ہے۔ اس مرحلے تک، وہ عمل ایوان کا نہیں ہوتا، عمل باہر ہوتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




