Urdu Conclave 2026

Joint Parliamentary Committee

اپوزیشن جماعتیں بل کی مخالفت کر رہی ہیں، جبکہ عیسائی تنظیموں نے بھی اس کی بعض دفعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ بل فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم سے متعلق ہے، جو ہندوستان میں افراد، انجمنوں اور کمپنیوں کی جانب سے غیر ملکی عطیات وصول کرنے اور ان کے استعمال کو منظم کرتا ہے۔

وقف ترمیمی بل پر جمعرات کو جے پی سی کی پانچویں میٹنگ ہوئی۔ سیاسی پارٹیوں کے اراکین کے ساتھ ہی مذہبی تنظیموں اورقانونی ماہرین کا موقف سنا گیا۔ میٹنگ میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ نےمغل بادشاہ اکبرکی بیگم کا ذکرکیا توکانگریس، عام آدمی پارٹی اوراے آئی ایم آئی ایم رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی برہم ہوگئے۔

وقف ترمیمی بل پرپارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کا دوسرااجلاس ہوا۔ اس میں مسلم تنظیموں نے کہا کہ ہم ترمیم کو قبول نہیں کرتے۔ حکومت کواس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

وقف ایکٹ ترمیمی بل-2024 پرغوروخوض کے لئے حکومت نے 31 اراکین والی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تشکیل کی گئی ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ میں مخالفت اوراپوزیشن کے مطالبات کو دیکھتے ہوئے اس بل کوجے پی سی کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔