Bharat Express DD Free Dish

Jan Suraaj Party

آئندہ بہار اسمبلی انتخابات کو لے کر جاری سیاسی ہلچل کے بیچ جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے اتوار کو اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی پارٹی کسی بھی سیاسی پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہماری مہم کسی مخصوص چہرے یا سیاسی تنظیم کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ ریاست اور اس کے عوام کی بہتری کے لیے ہے۔‘‘

جن سورج پارٹی کے بانی اورہندوستانی سیاست کے حکمت عملی سازپرشانت کشورپوری طرح سے بہارکے سیاسی میدان میں قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں۔ پرشانت کشورنے بہاراسمبلی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

پرشانت کشور نے اپیل کی کہ بہار میں اب تک جتنے بھی احتجاج میں شامل لوگوں پر لاٹیاں چلی اور جن لوگوں نے لاٹھی کھائی ہے، روکر گھر چلے گئے ہیں، آئیے واپس آئیے۔ اس گاندھی میدان میں نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ وقت آ گیا ہے اپنے حق کی آواز متحد ہوکر بلند کرنے کا۔

وینٹی وین کے بارے میں بی جے پی کے ترجمان اروند سنگھ نے کہا کہ پرشانت کشور 4 کروڑ روپے کی وینٹی وین لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔ ہر دن 25 لاکھ روپے کرایہ دیتے ہیں۔ اتنا پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ جو شخص 4 کروڑ روپے کی وینٹی وین میں فریش ہوتا ہے، وہ چلا ہے بی پی ایس سی کے امیدواروں کے لیے احتجاج کرنے۔

سردی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سردی ہے تو کیا کر سکتے ہیں۔ اس سردی میں بی پی ایس سی کے طلباء کی پٹائی ہوئی۔ ان پر پانی کی بوچھاریں کی گئیں۔ بہار میں 50 لاکھ سے زیادہ لوگ فیکٹریوں اور کھیتوں میں کام کر رہے ہیں۔ اگر اس نظام کو بدلنا ہے تو کچھ لوگوں کو سردی اور گرمی سے ہٹ کر کھڑا ہونا ہو گا، اسی لیے یہاں پر کھڑے ہیں۔

پرشانت کشور نے کہا کہ اسمارٹ میٹر لگانے کے بعد بجلی کے بلوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اس اضافے کی وجہ سے غریب خاندان اپنے بل ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔ لالو یادو اور نتیش کمار نے گزشتہ 35 سالوں سے بہار کو ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرکے حکومت کی۔

بہار میں سیلاب کی صورتحال پر اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے شاہنواز حسین نے کہا کہ جب بھی بہار میں سیلاب آیا۔ بی جے پی اور جے ڈی یو نے لوگوں کی مدد کی۔ بہار میں بی جے پی-جے ڈی یو کی این ڈی اے حکومت ہے۔ آج بھی جتنی مدد کی جا سکتی تھی فراہم کی جا رہی ہے۔

پرشانت کشور نے ویٹرنری گراؤنڈ میں میٹنگ کے دوران کہا کہ ہماری مہم گزشتہ ڈھائی سال سے جاری ہے۔ جن سوراج پارٹی کو الیکشن کمیشن سے اجازت مل گئی ہے۔ اگر ریاست میں ہماری حکومت بنتی ہے تو ہم ایک گھنٹے کے اندر شراب بندی کی پالیسی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔