Bharat Express DD Free Dish

Jan Suraaj Party

بہار اسمبلی انتخابات ہمیشہ سے سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے پہیلی رہا ہے۔ اوپینین پول اور اصل رزلٹ کے درمیان اکثر بڑا فرق دیکھا گیا ہے۔ 2000 سے 2020 تک ریاست میں ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات نے یہ ثابت کیا ہے کہ بہار کے ووٹر اکثر ماہرین کے اندازے کو الٹا ثابت کر دیتے ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات کے دوران جن سوراج پارٹی کے سرپرست پرشانت کشور (پی کے) نے بتا دیا ہے کہ لوگوں نے اتنی زیادہ ووٹنگ کیوں کی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے دوران ووٹ چوری کا معاملہ اٹھائے جانے پر جن سوراج کے لیڈر پرشانت کشور، یعنی پی کے، نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

وی آئی پی پارٹی کے سربراہ مکیش سہنی نے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد کہا کہ بہار میں تبدیلی کی لہر چل رہی ہے۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ زبردست ووٹنگ ہوئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس بار پورے بہار میں تبدیلی آئے گی اور مہاگٹھ بندھن کی حکومت بنے گی۔

الیکشن افسر کو لکھی شکایت میں راکیش کمار مشرا نے الزام لگایا ہے کہ مقامی پولیس دوسری پارٹی کے لیڈروں کے زیر اثر کام کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے اس معاملے میں اپنا بیان درج کرانے کی کوشش کی تو تھانہ انچارج اروند کمار نے بیان ریکارڈ کرنے سے صاف انکار کر دیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔

اننت سنگھ نے کہا کہ حادثے کے وقت وہاں موجود لوگوں کے پاس پہلے سے ہی ہتھیار موجود تھے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ پوری سازش آر جے ڈی لیڈر سورج بھان سنگھ نے رچی تھی تاکہ ووٹوں کو متاثر کیا جا سکے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے دوران پرشانت کشور کو سب سے بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ موکاما میں جن سوراج کے ایک لیڈر کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔

انتخابی حکمتِ عملی کے ماہر اور ”جن سوراج پارٹی“ کے بانی پرشانت کشور ایک نئی تنازعے میں گھر گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشور کا نام بہار اور مغربی بنگال، دونوں ریاستوں کی ووٹر لسٹوں میں درج پایا گیا ہے، جو قانوناً ممنوع ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات  میں سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والے’’جن سوراج‘‘کے بانی پرشانت کشور یعنی PK نے ووٹنگ سے پہلے متبادل (آپشن) کی بات کی ہے۔ ساتھ  ہی انہوں نے مسلمانوں سے متعلق بھی ایک بڑا بیان دیا ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں پرشانت کشور (Prashant Kishor) یعنی پی کے کے کئی امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں۔ ایسے میں جن سوراج (Jan Suraj) نے اب جوابی کارروائی کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔