بہار اسمبلی انتخابات کا فیصلہ کن لمحہ آ چکا ہے۔ اس سیاسی میدان سے آنے والے تازہ رجحانات کی تصویر اب تقریباً واضح دکھائی دے رہی ہے، جس میں اقتدار کی ڈور ایک بار پھر نتیش کمار کے ہاتھوں میں جاتی نظر آ رہی ہے۔ جبکہ عظیم اتحاد کی کوششیں اس بار بھی بے اثر ثابت ہوئی ہیں اور تیجسوی یادو کی قسمت پر لگا تالا پھر نہیں کھل پایا۔لیکن سب سے بڑی بحث نتائج کی نہیں بلکہ اس شخص پر ہو رہی ہے جس نے 150 سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کیا تھا، وہ شخص پرشانت کشور یعنی پی کے ہیں۔ ان کی جن سوراج پارٹی کا اس انتخابات میں کھاتہ بھی نہیں کھلا۔ تمام سیٹوں پر ان کے امیدوار چوتھے یا پانچویں مقام پر محدود دکھائی دے رہے ہیں۔ خود پی کے کے گھر کے علاقے کرہگر میں بھوجپوری کے سپر اسٹار گلوکار رتیش پانڈے بھی پس رہے ہیں۔ چھ راؤنڈ کی گنتی میں ان کے حصے میں صرف 2788 ووٹ آئے۔
پرشانت کشور پر غداری کا الزام
تازہ رجحانات کے مطابق این ڈی اے 202 سیٹوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ عظیم اتحاد صرف 40 سیٹوں پر آگے ہے۔ نتائج کے اس عدم توازن کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ الزام لگ رہا ہے کہ پی کے نے پردے کے پیچھے سے بی جے پی کو خاموشی سے حمایت دی۔ عظیم اتحاد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جن سوراج نے ہر سیٹ پر امیدوار اتار کر مخالف ووٹ تقسیم کیے اور اس کا براہِ راست فائدہ این ڈی اے کو پہنچا۔
کرہگر میں پی کے کا دھوکہ
عظیم اتحاد کے حامی کہتے ہیں کہ کرہگر سے کانگریس نے سنتوش مشرا کو میدان میں اتارا، جبکہ جے ڈی یو نے بشیشٹھ سنگھ کو ٹکٹ دیا تھا۔ عظیم اتحاد کے امیدوار سنتوش مشرا برہمن ہیں۔ لیکن پرشانت کشور نے رتیش پانڈے کو میدان میں اتار کر انتخابی مساوات تبدیل کرے دیے۔ رجحانات بتاتے ہیں کہ سنتوش مشرا 7 ہزار ووٹوں سے پیچھے ہیں اور برہمن ووٹوں میں واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔ مقامی لوگ کھل کر کہہ رہے ہیں کہ یہ تقسیم پی کے کی وجہ سے ہوئی۔
اورنگ آباد کا مساوات خراب
اورنگ آباد سیٹ پر کانگریس کے آنند شنکر سنگھ اور بی جے پی کے ترویکرم نارائن سنگھ کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہے۔ ترویکرم نارائن سنگھ 2300 ووٹوں سے آگے ہیں۔ یہاں بھی جن سوراج نے یادو امیدوار اتار کر عظیم اتحاد کے ووٹ بینک میں دراڑ ڈال دی۔ جبکہ دونوں بڑے جماعتوں نے راجپوت امیدوار اتارے تھے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے عظیم اتحاد کے نقصان کا اہم سبب قرار دے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



