Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulama-e-Hind

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کانوڑ یاترا کے راستے پر مذہبی شناخت کو اجاگر کرنے کے اتر پردیش حکومت کے حکم کی سخت مذمت کی ہے۔ مولانا مدنی نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ اور تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔

قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال این سی پی سی آرکے خط و کتابت کی بنیاد پر یوپی حکومت نے26جون 2024 کوہدایت جاری کی ہے کہ امدادیافتہ اور تسلیم شدہ مدارس میں داخل غیر مسلم طلبہ کو علیحدہ کیا جائے اوران کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کیا جائے۔

جمعیۃ علماء ہند کے وفد کی متاثرین سے ملاقات میں مہلوکین کے ورثاء کو دس ہزاراورزخمیوں کو پانچ ہزار روپئے کی مالی مدد دی گئی۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ فرقہ پرست دلوں میں دوری پیدا کرتے ہیں جبکہ جمعیۃ علماء ہنددلوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی مجلس منتظمہ کا اہم اجلاس اس کے صدردفتر نئی دہلی میں آج صبح شروع ہوا، جس میں ملک بھر سے جمعیۃ علماء ہند کے تقریباََ دو ہزاراراکین ومشاہیرنے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت مولانا محمود اسعد مدنی صدرجمعیۃ علماء ہند کررہے ہیں۔ اجلاس کی پہلی نشست میں ملک …

جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے مسلمانوں سے خاص اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ قربانی کے جانور کی کوئی تصویر سوشل میڈیا پرشیئر نہ کریں۔ 

این سی پی سی آر کے چیئرمین پریانک کانونگو نے این آئی اوایس کو خط  لکھ جمعیۃ علماء ہند کے تعلیمی ادارہ ’جمعیۃ اوپن اسکول‘ کی مہم کو’منظم جرم‘ سے تعبیرکیا تھا۔ نیز اس پر بیرون ملک سے  فنڈ حاصل کرنے بالخصوص پاکستان سے تعلق ہونے کا بے بنیاد الزام عائدکیا تھا۔

این سی پی سی آر نے این آئی او ایس کو ایسے کورسز کو بند کرنے کا مشورہ دیا ہے اور ان طلباء سے کہا ہے کہ وہ اسکول میں باقاعدہ اسکولنگ کے لیے داخلہ لیں۔ این سی پی سی آر نےرائٹ ٹوایجوکیشن ایکٹ کا حوالہ دیا اور دلیل دی کہ کلاس 3، 5 اور 8 کے لیے اوپن اسکولنگ کی پیشکش ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

ہلدوانی جمعیۃعلماء کے صدرمولانا محمد مقیم نے وفد کو معاملہ کی تفصیلی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ 29 جنوری کونگرنگم کی طرف سے ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے مقامی لوگوں میں کافی تشویش پائی جارہی تھی اوربے چینی کاماحول تھا۔

وفد نے 'ایس ڈی ایم' سے ملاقات کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا اور مسلم نوجوانوں کی من مانی گرفتاریوں، دھمکیوں اور ہراساں کرنے کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی مدنی نے سوال کیا کہ اگرآئین کی ایک دفعہ کے تحت درج فہرست قبائل کو اس قانون سے الگ رکھا جاسکتا ہے توآئین کی دفعہ 25،26 کے تحت ہمیں مذہبی آزادی کیوں نہیں دی جاسکتی ہے، جن میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے