Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulama-e-Hind

 بلڈوزرکارروائی پرسپریم کورٹ کے فیصلے کا تمام اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے استقبال کیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادونے کہا ہے کہ انصاف کے سپریم آرڈرنے نہ صرف بلڈوزربلکہ ان لوگوں کی تباہ کن سیاست کوبھی ختم کردیا ہے، جو بلڈوزرکا غلط استعمال کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے بلڈوزرکارروائیوں کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی اور سکریٹری مولانا نیازاحمد فاروقی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ایک عبوری حکم جاری کیا ہے کہ ملک کے کسی کونے میں یکم اکتوبر2024 تک بلڈوزرنہیں چلایا جائے گا۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشدمدنی نے آج کی قانونی پیش رفت پراپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ بات کسی المیہ سے کم نہیں کہ فرقہ پرست ذہنیت طاقت کے زعم میں خود کوعدلیہ اور قانون سے بالاترسمجھنے لگی ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جو کام حکومتوں کا تھا، اب وہ عدالتیں کررہی ہیں۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے بلڈوزرکارروائی پرناراضگی ظاہرکی ہے اوراترپردیش حکومت سے پوچھا کہ ایسی کون سی صورتحال تھی، جس کی وجہ سے قانونی طریقہ پر عمل کئے بغیرعرضی گزاروں کے گھروں کو منہدم کر دیا گیا۔ عدالت نے اس معاملے میں یوپی حکومت سے جواب داخل کرنے کوکہا ہے۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی دعوت پر جمعیۃ کے مرکزی دفتر نئی دہلی میں وقف (ترمیمی) بل سے متعلق ایک اہم مشاورتی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں مختلف ملی تنظیموں کے سربراہان ، سیاسی و سماجی شخصیات اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔

مولانا ارشد مدنی کی ھدایت جمعیۃعلماء ہند نے ہی اپنی پٹیشن میں بلڈوزرکارروائی انجام دینے والی تمام ریاستوں کو فریق بنایاتھا۔

جمعیۃ علما ء ہند کے صدر مولانا ارشدمدنی نے سپریم کورٹ کی جانب سے ریاستوں کے لئے گائیڈلائن مرتب کرنے کے فیصلے کوخوش آئند قراردیا ہے۔

تین ریاستوں میں بلڈوزر کارروائی کے معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جمعیۃ علما ہند کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے سوال اٹھایا ہے کہ محض ملزم ہونے پر کسی کے خلاف بلڈوزر کارروائی کیسے کی جاسکتی ہے؟

اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس پنکج پروہت اورجسٹس منوج کمار تیواری نے یہ فیصلہ صادرکیا۔ مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہندنے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی۔