Bharat Express DD Free Dish

Jaish-e-Mohammed

پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے سیکورٹی ایجنسیاں اب اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کب سے دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھا کن کن دہشت گردوں سے اس کے رابطے تھے

ہندوستان اپنی ناکافی طور پر محفوظ طویل ساحلی پٹی کے علاوہ مغرب، شمال اور شمال مشرق میں اپنی غیر محفوظ سرحدوں کی وجہ سے دہشت گردوں کے حملوں کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔ ہندوستان میں داخل ہونے والے یا رہنے والے دہشت گردوں اور باغیوں کو بہت سے ذرائع سے خاص طور پر بیرون ملک واقع ایجنسیوں سے زبردست مادی امداد اور فنڈز ملتے رہتے ہیں۔

اظہر، جو 26/11 ممبئی دہشت گرد حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے، 2001 کے پارلیمنٹ حملے، 2016 کے پٹھانکوٹ حملے اور 2019 کے پلوامہ حملے میں بھی ملوث تھا۔بھارت طویل عرصے سے مسعود اظہر اور لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کی پاکستان سے حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ملک اشفاق نصیر کو 2007 میں پولیس کانسٹیبل کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔ اس کا بھائی ملک آصف نصیر، جو پاکستان سے تربیت یافتہ لشکر طیبہ کا دہشت گرد تھا، 2018 میں ایک انکاونٹر میں مارا گیا تھا۔ ملک خود لشکر طیبہ کے لیے اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھا۔

جیش محمد کے سربراہ کے خلاف وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کے پاکستان میں ہونے کی بات سے انکارکیا جا رہا ہے۔

دفاعی ترجمان نے بتایا کہ خصوصی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کٹھوعہ میں مشترکہ تلاشی مہم چلائی جارہی ہے۔ کٹھوعہ بسنت گڑھ سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانے کا انکشاف ہوا ہے

پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے کہا تھا کہ تمام مجرم ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش میں ملوث تھے۔ یہ سبھی نہ صرف جیش محمد کے رکن تھے بلکہ انہوں نے جیش محمد کے ارکان کو پناہ دی اور انہیں اسلحہ اور گولہ بارود بھی فراہم کیا۔

اب گلمرگ نہیں جائیں گے جی20 کے غیر ملکی مہمان،دہشت گردوں نے ہوٹل میں مہمانوں کو نشانہ بنانے کا تیار کیا تھا پلان

ٹویٹر یوزر آصف آفریدی نے عید کی نماز کے دوران اپنا تجربہ بیان کیا جہاں انہوں نے کالعدم تنظیم کے ارکان کو پشاور میں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں کھلے عام فنڈز جمع کرتے ہوئے دیکھا

26 فروری 2019 کو ہندوستان کے جنگی طیاروں نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بالا کوٹ کے مقام پر جیشِ محمد کے مبینہ تربیتی مرکز پر حملہ کرکے اسے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔