Bharat Express DD Free Dish

ISRO

ISRO نے جمعرات کے روز ٹویٹ کیا کہ لینڈر ماڈیول کے ہندوستانی وقت کے مطابق شام 4 بجے کے قریب ڈیبوسٹنگ (سست ہونے کا عمل) سے گزر کر چاند کے قدرے نچلے مدار میں اترنے کا امکان ہے۔

چندریان 3 مشن آج ایک انتہائی اہم مرحلے پر پہنچ گیا ہے۔ اب چاند سے بہت کم فاصلہ رہ گیا ہے۔ اسرو نے چندریان کو 153×163 کلومیٹر کے مدار میں کامیابی کے ساتھ نصب کر دیا ہے

چندریان 3 جیسے جیسے چاند کی سطح کے قریب پہنچ رہا ہے، اس کے چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ، یہ چاند کے مدار میں واحد طیارہ نہیں ہے۔ صرف جولائی 2023 تک چاند کے مدار میں 6 لونر میشن ایکٹو موڈ میں ہیں۔

یہ ISRO کے قابل اعتماد راکٹ PSLV کی 58ویں پرواز تھی اور 'کور اکیلے کنفیگریشن' کے ساتھ 17ویں پرواز تھی۔ پی ایس ایل وی راکٹ کو اسرو کا ورک ہارس کہا جاتا ہے۔ یہ بہت بڑا راکٹ مسلسل کامیابی کے ساتھ زمین کے نچلے مدار میں سیاروں کو نصب کر رہا ہے۔

چندریان 3 کو اسرو کے سب سے قابل اعتماد راکٹ ایل وی ایم سے لانچ کیا گیا۔ چاند پر جانے کے لیے چندریان 3 کو کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔

اگر چاند پر'سافٹ لینڈنگ' یعنی چندریان -3 کو محفوظ طریقے سے اتارنے کا اسرو کا یہ مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو ہندوستان ان منتخب ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا، جو ایسا کر پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

چندریان 3 کے ساتھ پروپلشن ماڈیول جا رہا ہے۔ جو کہ ایک کمیونیکیشن سیٹلائٹ کی طرح ہوتا ہے۔ یعنی یہ لینڈر ماڈیول کو چاند کے قریب چھوڑ کر صرف زمین اور لینڈر کے درمیان رابطے میں مدد کرے گا

چندریان-3 کی لانچنگ کے لیے اسرو LVM-3 لانچر کا استعمال کر رہا ہے۔ چندریان 2 میں لینڈر، روور اور آربیٹر تھے۔

ایک بارپھر انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سائنسدانوں نے آج (پیر) صبح 10.42 بجے جی ایس ایل وی - ایف 12 سیٹلائٹ (جیو اسٹیشنری سیٹلائٹ لانچ وہیکل) لانچ کیا۔اسرو کی جانب سے لانچ کیا گیا یہ سیٹیلائٹ اور مشن مجموعی طور پر واضح انداز میں کامیاب رہا ہے۔

ناوک سیٹلائٹ کو ہندوستان اپنے علاقائی سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ناوک نیویگیشن سیٹیلائٹ کو جیوسنکرونس ٹرانسفر آربٹ میں جی ایس ایل وی کے ذریعہ بھیجا جائے گا۔