Bharat Express DD Free Dish

Iran US tensions

سعودی ولی عہد اور قطری امیر کے درمیان یہ رابطہ علاقائی اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے تعلقات 2021 میں خلیجی بحران کے خاتمے کے بعد سے بہتر ہوئے ہیں، جب سعودی عرب نے قطر پر عائد سفارتی اور اقتصادی پابندیاں ختم کی تھیں۔

علاقائی کشیدگی کے باوجود، قطر نے سفارتی کوششوں کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی بات کی ہے۔ ایران نے واضح کیا کہ اس کا حملہ العدید بیس کو نشانہ بنانے کے لیے تھا، جو امریکی فضائیہ کا اہم مرکز ہے، اور اس نے قطر کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی یقین دہانی کرائی۔

قطر نے اس جنگ بندی کے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ رائٹرز کے مطابق، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایرانی حکام سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور امریکی تجویز کردہ جنگ بندی پر ایران کی رضامندی حاصل کی۔

جوہری پلانٹس پرامریکی حملے کے بعد ایران مکمل طورپرحملہ کرنے کا پلان بنا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایران 24 سے 48 گھنٹوں میں بڑا حملہ کرے گا۔ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملہ کرسکتا ہے۔

فاروق عبداللہ کا یہ بیان عالمی سیاست میں مسلم ممالک کے اتحاد اور فعالیت کے فقدان کو واضح کرتا ہے۔ عبداللہ کا ماننا ہے کہ اگر مسلم ممالک اس بحران میں اکٹھے نہیں ہوئے تو انہیں مستقبل میں ایسے ہی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم سمندری راستوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملاتی ہے۔ دنیا کی تیل کی نقل و حمل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی سپلائی متاثر ہوگی اور قیمتیں بڑھیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس اقدام سے قبل اپنے اختیارات کا بغور جائزہ لے گا، کیونکہ اس سے نہ صرف اس کے دشمن بلکہ اس کے اتحادی ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی کونسل کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔

ٹرمپ نے ایران کو بغیر کسی شرط کے فوری سرنڈر کرنے کا مطالبہ کیا اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ: "ہمیں معلوم ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کہاں چھپے ہیں، فی الحال ہم حملہ نہیں کریں گے، لیکن ہمارا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے۔"