مشرق وسطیٰ میں مسلسل بگڑتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے درمیان، مرکزی پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے اتوار کو کہا کہ ہندوستان میں ایندھن کی سپلائی محفوظ ہے اور عام شہریوں کو کسی بھی چیز سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ہردیپ سنگھ پوری نے ایک ایکس پوسٹ میں لکھاکہ پچھلے دو ہفتوں سے، ہم مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، ہم نے گزشتہ برسوں میں اپنے سپلائی کے ذرائع کو متنوع بنایا ہے اور اب ہماری سپلائی کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے نہیں آتا ہے۔
We have been closely monitoring the evolving geopolitical situation in the Middle East since the past two weeks. Under the leadership of PM @narendramodi Ji, we have diversified our supplies in the past few years and a large volume of our supplies do not come through the Strait…
— Hardeep Singh Puri (@HardeepSPuri) June 22, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس کئی ہفتوں کی سپلائی ہے، اور وہ کئی متبادل راستوں سے توانائی کی سپلائی حاصل کرتی رہیں گی۔ پوری نے یقین دلایاکہ ہم اپنے شہریوں کو ایندھن کی فراہمی کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی تجویز منظور کر لی
ادھر ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم اس فیصلے کی حتمی منظوری ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل دے گی۔یہی نہیں اس سے قبل انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز میں ہلکی سی بھی رکاوٹ پیدا ہوئی تو اس کا تیل کی منڈیوں پر بڑا اثر پڑے گا۔ ایجنسی نے کہا کہ اس وقت تیل کی سپلائی سیکورٹی بین الاقوامی پالیسی کا ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں عالمی سطح پر اب تمام نظریں خلیجی خطے کی صورتحال پر لگی ہوئی ہیں جہاں ایک چھوٹا سا قدم بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم سمندری راستوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملاتی ہے۔ دنیا کی تیل کی نقل و حمل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔ کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی سپلائی متاثر ہوگی اور قیمتیں بڑھیں گی۔ اس سے ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی معیشتیں متاثر ہو سکتی ہیں جن کا انحصار ایران اور اس علاقے سے آنے والے ایندھن پر ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

