US Hits Iran Missile Sites Near Hormuz: امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے میزائل ٹھکانوں پر کیا حملہ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، ان حملوں میں بھاری بموں کا استعمال کیا گیا ہے جو مضبوط اور محفوظ ٹھکانوں کو بھی تباہ کر سکتے ہیں۔ یہ میزائل ٹھکانے ایران کے ساحلی علاقوں میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع تھے، جہاں تعینات اینٹی شپ میزائل گزرنے والے تجارتی اور فوجی جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کر رہے تھے۔
Around 130000 Indian Nationals Returned To India: مشرق وسطیٰ بحران: ایران سے محفوظ طریقے سے نکالے جا رہے بھارتی، 28 فروری سے اب تک 1.30 لاکھ وطن واپس پہنچے
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے درمیان وزارت خارجہ نے پیر کو بریفنگ دی کہ 28 فروری سے اب تک تقریباً 1.30 لاکھ بھارتی شہری محفوظ طریقے سے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ ایران میں پھنسے 550 بھارتی شہری پہلے آرمینیا اور بعد میں آذربائیجان پہنچ گئے ہیں۔
Macron Urges Iran To Cease Regional Attacks: فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی ایران سے مشرق وسطیٰ میں حملے روکنے کی اپیل، خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار
میکرون نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو یاد دلایا کہ فرانس اپنے قومی مفادات، خطے میں موجود اپنے شراکت داروں اور بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے پوری طرح دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں فرانس یا اس کے مفادات کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہوگا۔
Dubai Airport Drone Incident: دبئی ایئرپورٹ کے قریب تیل ٹینکر پر ڈرون حملہ، فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل، سیکیورٹی اقدامات سخت
اطلاعات کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون ایک تیل کے ٹینکر سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔ فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور مختصر وقت میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔
US-Israel vs Iran War: ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو لے کر سات ممالک سے کی بات چیت، نیٹو پر کیا تشویش کا اظہار، فوجی مدد کے لیے کوئی ملک آگے نہ آیا
امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔
Iran-US-Israel War: تہران کے بعد اصفہان امریکہ و اسرائیلی کے مسلسل نشانے پر کیوں؟
رپورٹس کے مطابق، حالیہ حملوں میں ایران کے تقریباً 200 شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اصفہان نمایاں ہے۔ تہران اور مشہد کے بعد اصفہان ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے اور اسے ایران کا اہم صنعتی و فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں میزائل اور دفاعی پیداوار سے متعلق کئی اہم ادارے موجود ہیں، جو شہر کی اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
Middle East Conflict: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ معاہدے سے انکار، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زندہ ہونے پر بھی ظاہر کیا شبہ
امریکی صدر نے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں عوام کے سامنے نہیں دیکھا۔ میں یہ بھی سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں ہیں اور اگر وہ زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے ایک دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور وہ فیصلہ ہتھیار ڈالنے کا ہے“۔
Iran-US-Israel War: آبنائے ہرمز کھلا ہے، مگر اس کا کنٹرول ہمارے پاس ہے: آئی آر جی سی کمانڈر
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے جہازوں کے لیے یہ راستہ بند سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔
West Asia Conflict: مغربی ایشیا کی کشیدگی میں پانچ بھارتی ہلاک، ایک لاپتہ، حکومت نے تیز کر دیں امدادی کارروائیاں
وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے اضافی سکریٹری عاصم مہاجن نے 14 مارچ کو نئی دہلی میں ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ کے باعث بھارتی شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اب تک پانچ بھارتی شہریوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شہری لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔
Middle East Crisis: ہم بھی جنگ کے لیے تیار ہیں، آپ شروع تو کر سکتے ہیں مگر ختم نہیں: ایرانی سفیر محمد فتح علی
ایرانی سفیر نے کہا، ”ہاں، ہم نے اجازت دی ہے، لیکن میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ کتنے جہازوں کو اجازت دی گئی ہے۔ بطور سفیر میں اس معاملے پر آئندہ بھی نظر رکھوں گا کیونکہ ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔ ایک سفیر کی حیثیت سے میں نے اپنی پوری کوشش کی اور کچھ تاخیر کے بعد یہ ممکن ہو سکا“۔





