Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel Crisis

حالیہ دنوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر ایک حساس اور خطرناک سمندری راستہ بنا دیا ہے۔ کئی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس کے بعد عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایسے حالات میں بھارتی ٹینکر کا اس راستے سے محفوظ گزر کر ممبئی پہنچ جانا ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توانائی بحران سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تیل کمپنیوں کو یقین دلایا جائے کہ آبنائے ہرمز محفوظ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کی ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

ایئر انڈیا کے مطابق بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت کو متوازن رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایوی ایشن فیول کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں جس سے فضائی کمپنیوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

لبنان سے 177 بھارتی شہریوں کو بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے جبکہ قطر سے بھی 500 سے زائد بھارتی شہری تجارتی پروازوں کے ذریعے ہندوستان روانہ ہو چکے ہیں۔ بھارتی سفارت خانوں نے صورتحال کے پیش نظر ہنگامی ہیلپ لائنیں فعال کر دی ہیں اور شہریوں کے لیے خصوصی سکیورٹی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک مختصر انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ تقریباً پانچ منٹ پر مشتمل اس گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اب نشانہ بنانے کے لیے بہت کم فوجی اہداف باقی ہیں، اس لیے جنگ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی میں اس کا مرکزی کردار ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے فون پر مفصل بات چیت کی۔ اس گفتگو میں توانائی کی سپلائی، ہرمز اسٹرٹ کی سیکیورٹی، چابہار پورٹ منصوبہ اور علاقائی استحکام جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ ٹرک بھارت پیٹرولیم کارپوریشن کے کری پلانٹ سے منسلک تھا اور 2 مارچ کو 524 ایل پی جی سلنڈرز کانپور دیہات کے گجنیر پہنچانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔ ٹرک میں سلنڈر لوڈ ہونے کے بعد ڈرائیور گھر چلا گیا تاکہ ہولی کی خوشیوں میں شامل ہو سکے۔ اسی دوران نامعلوم چوروں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرک چوری کرلی۔

سرکاری تیل کمپنیوں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی ایل پی جی کی فراہمی جاری رکھی جا رہی ہے۔ تاہم وزارت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کمرشل ایل پی جی کی سپلائی بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے ہر شکایت کا فوری حل ممکن نہیں ہو سکتا۔

ملک کی معروف کمپنی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفائنری کے آپریشنز میں ضروری تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ پیداوار کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ملکی بازار میں ایل پی جی کی سپلائی مستحکم اور قابل اعتماد رہے اور صارفین کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔