Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel Crisis

ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے ٹرمپ کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے حامی ممالک کے لیے اب بھی بند ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی ایسے جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو امریکہ یا اسرائیل کی حمایت کرتا ہو۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے زبردستی گزرنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی کے تحت واشنگٹن براہ راست جنگی صورتحال میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکہ اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کو آگے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو ایک توازن رکھنے والی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، اسرائیل اور امریکہ تینوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

عالمی ماہرین کے مطابق یہ عارضی وقفہ علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم موقع فراہم کرتا ہے، اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر فوری حملے کے خطرے میں کمی پیدا کرتا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر توانائی کی مارکیٹ اور علاقائی سیاست پر بھی اثر پڑ سکتا ہے،

ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے جاری تازہ بیان میں بتایا گیا کہ فضائی دفاعی نظام نے بیلسٹک میزائل کو کامیابی کے ساتھ فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا، تاہم میزائل کے ٹکڑے زمین پر گرنے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے دونوں افراد غیر ملکی شہری تھے جن میں ایک کا تعلق بھارت اور دوسرے کا پاکستان سے ہے۔

دنیا کی معیشت پر ایران اور امریکہ-اسرائیل کے حملوں کا اثر دکھائی دینے لگا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کئی ممالک میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا اور پٹرول اسٹیشنز پر ریشننگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تہران کے تیل اور ریفائن شدہ ایندھن پر امریکہ کی طرف سے کئی پابندیوں کو عارضی طور پر ہٹانے کے بعد، بھارت نے کئی سالوں بعد ایران سے اپنی پہلی ایل پی جی کی خریداری کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستانی کنٹینر جہاز متحدہ عرب امارات سے کراچی کی جانب رواں دواں تھا، جب ایرانی فورسز نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاز میں تقریباً 6850 ٹن سامان لدا ہوا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے بعد جہاز کو واپس جانے کی ہدایت دی گئی۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایران نے اب تک اسرائیل پر سب سے بڑے میزائل حملے میں 500 سے زائد میزائل داغے ہیں۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) کے مطابق صرف 24 مارچ کی رات میں ہی 220 میزائل ایک ساتھ داغے گئے جو اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تین اہم جوہری مراکز — نطنز ، اصفہان اور فوردو کو بند کرے ۔ ساتھ ہی ایران کو اپنے ملک میں یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنے اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی معطل کرنے کو کہا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تنازعہ کی لہر اب فلپائن تک پہنچ گئی ہے۔ جاری کشیدگی نے انٹرنیشنل انرجی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے فلپائن نے منگل کو ’نیشنل انرجی ایمرجنسی’ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے فلپائن دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے انرجی بحران کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا ہے۔