Bharat Express DD Free Dish

Indian Railway

وزارت ریلوے کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ہندوستانی ریلوے نے گزشتہ ایک دہائی میں 640 کروڑ لیٹر سے زیادہ ڈیزل کی بچت کرکے ماحولیاتی استحکام میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا ہے۔ ہندوستانی ریلوے کے اس قدم سے 400 کروڑ کلو گرام CO2 کے اخراج میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ہندوستان نے ریلوے سامان کی فروخت کو یورپ، آسٹریلیا اور سعودی عرب تک بڑھا کر اپنی برآمدات کا دائرہ کافی حد تک بڑھا دیا ہے۔

اشونی وشنو نے کہا کہ فی کلومیٹر ٹرین کے سفر کی قیمت تقریباً 1.4 روپے ہے لیکن مسافروں سے صرف 73 پیسے وصول کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال 1,400 لوکوموٹیوز تیار کیے گئے جو کہ امریکہ اور یورپ کی مشترکہ پروڈکشن سے زیادہ ہیں اور 31 مارچ تک ہندوستانی ریلوے 1.6 بلین ٹن کارگو کے ساتھ دنیا کے تین بڑے مال بردار کیریئر میں شامل ہو جائے گی۔

نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر حالیہ حادثے کے بارے میں مرکزی وزیر ریلوے نے ایوان کو بتایا کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی اس افسوسناک واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور تمام ڈیٹا کو محفوظ کرلیا گیا ہے، اور تقریباً 300 لوگوں سے بات کرکے حقائق کی جانچ کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ 11 سالوں میں مال بردار اور مسافر ٹرینوں کی نقل و حرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ملک بھر میں 34,000 کلومیٹر سے زیادہ نئے ریلوے ٹریک بچھائے گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 سالوں میں خواتین لوکو پائلٹس کی تعداد میں یہ اضافہ مختلف ریاستوں میں دیکھا گیا ہے۔ اتر پردیش کی خواتین لوکو پائلٹوں کی یہ تعداد 36 سے بڑھ کر 222 ہو گئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ کمبھ کے علاقے میں 200 سے زیادہ ٹرینوں کو سروس میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ یا تو ٹرین سیٹ تھے یا ان کے دونوں طرف انجن تھے تاکہ شنٹنگ آپریشنز سے بچ سکیں۔

ہفتہ کی رات نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ مچ گئی، اس کے بعد اسٹیشن پر جو منظر دیکھا گیا وہ نہایت ہی دردناک منظر تھا ۔ مہا کمبھ میں جانے کے لیے شام 4 بجے سے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھیڑ جمع ہونا شروع ہوگئی۔

ایک اور بڑا مسئلہ یہ تھا کہ بغیر ٹکٹ مسافروں کی بڑی تعداد پلیٹ فارم پر آ گئی تھی۔ کنفرم ٹکٹ والے مسافر بھی ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن یہاں تک کہ جنرل بوگیاں اور اے سی بوگیاں بھی پوری طرح سے بھری ہوئی تھیں۔

ادھردہلی پولیس نے تصدیق کی کہ کل رات نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ میں 14 خواتین سمیت 18 افراد کی جانیں گئیں۔جبکہ زخمیوں کی تعداد12 بتائی جارہی ہے جن کا علاج چل رہا ہے۔