Bharat Express DD Free Dish

Indian Railway

مرکزی وزیر برائے ریل اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت میں کیرلم میں ریلوے کی ترقی کے لیے بجٹ مختص کرنے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، 2014 میں ریاست کے ریلوے کے لیے جہاں 372 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، وہیں مالی سال 27-2026 میں یہ رقم بڑھ کر 3,795 کروڑ روپے ہوگئی ہے۔ یعنی گزشتہ برسوں کے دوران ریلوے بجٹ میں تقریباً 10 گنا اضافہ ہوا ہے۔ کیرلم کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ملاقات کے بعد ریلوے وزیر نے ریاست میں جاری ریلوے منصوبوں اور مستقبل کی اسکیموں کے حوالے سے معلومات شیئر کیں۔

مودی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے 3 ریلوے منصوبے وزیر اعظم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت تیار کیے گئے ہیں، جن کا بنیادی مقصد مربوط منصوبہ بندی اور متعلقہ فریقوں کی مشاورت کے ذریعے ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی اور لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ ان منصوبوں سے لوگوں، سامان اور خدمات کی بلارکاوٹ آمدورفت یقینی ہوگی۔

انڈین ریلوے نے مشن موڈ میں بھرتی مہم چلا کر اپنے افرادی قوت کو مسلسل مضبوط بنایا ہے۔ ریلوے وزارت کے مطابق خالی آسامیوں کو پُر کرنا ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے، جبکہ ریلوے نیٹ ورک کی توسیع، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، جدید کاری اور بہتر آپریشن کے لیے بھی نئی تقرریاں کی جاتی ہیں۔

مسافروں کے مطابق نمو بھارت ٹرینوں نے دہلی اور این سی آر کے مختلف شہروں کے درمیان سفر کو نہ صرف آسان بنایا ہے بلکہ روزانہ کئی گھنٹوں کی بچت بھی ممکن بنائی ہے۔ خاص طور پر دفاتر جانے والے ملازمین، طلبہ اور روزانہ سفر کرنے والے افراد اس سہولت سے بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اگر ٹرین کا ٹکٹ ویٹنگ میں ہے تو IRCTC کی ‘وِکلپ’ اسکیم آپ کے کام آ سکتی ہے۔ اس کے ذریعے آپ دوسری ٹرینوں میں کنفرم سیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ جانیے یہ کیسے کام کرتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے اب تک تقریباً 55 ہزار کلومیٹر ریلوے ٹریک کی تجدید کی جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 80 ہزار کلومیٹر سے زائد مضبوط 60 کلوگرام ریل بھی بچھائی گئی ہے، جو بھاری وزن اور تیز رفتار ٹرینوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان اقدامات سے جدید اور تیز رفتار ٹرینوں، خصوصاً وندے بھارت ایکسپریس جیسی خدمات کو فروغ ملا ہے۔

ریلوے پٹری اس پورے نظام کی بنیاد ہے۔ جب یہ اچھی حالت میں ہو تو ٹرینیں محفوظ طریقے سے زیادہ رفتار سے چلتی ہیں اور جب ایسا نہ ہو تو اس کے نتائج رفتار کی پابندیوں اور تاخیر سے لے کر حفاظتی خطرات تک سامنے آتے ہیں۔ ٹوٹی ہوئی پٹری، ڈھیلے جوڑ یا پٹری کے نیچے بکھرے ہوئے پتھر سب ٹرین کی حرکت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستانی ریلوے کے پورے نظام میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں اور ان کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران واضح پالیسی، جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ریلوے کے حفاظتی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

ٹرین کے سفر کے دوران لگنے والے جھٹکوں سے اب جلد نجات ملنے والی ہے۔ ریلوے ٹریک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے لوہے اور کنکریٹ کی جگہ ہلکے اور مضبوط کمپوزٹ سلیپرز کا استعمال شروع کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور گراؤنڈ پینیٹریشن ریڈار جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اسٹیشن پر تقریباً 1500 آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ یہ جدید کیمرے اسٹیشن کے ہر حصے پر نظر رکھیں گے اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری نشاندہی کریں گے۔ ریلوے حکام کے مطابق یہ کیمرے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گے اور سکیورٹی اداروں کو فوری کارروائی میں مدد فراہم کریں گے۔